fbpx

پولیس نے بابر خانزادہ کو تشدد کرکے قتل کیا، حلیم عادل شیخ

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر دیکھا جس میں ایک نوجوان کی لاش تھانے کے سامنے لٹکی ہوئی تھی ۔ ایک غریب کو پولیس والوں نے تھانے میں بے دردی سے مارا ہے۔ بابر خانزادہ کے قاتلوں کے خلاف دھرنے کے باوجود پولیس نے اپنے پیٹی بھائیوں کہ خلاف کیس داخل نہیں کیا۔
حیدرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ حکومت اور پولیس سندھ کے لوگوں کے حقوق کھاررہی ہے ۔سندھ میں جنگل کا قانون ہے سندھ حکومت پولیس سے بھتہ لیتی ہے۔بابر خانزادہ نامی نوجوان کو پولیس نے گھر سے اٹھایا اور رہائی کے لیے گھر والوں سے پیسے طلب کیے تاہم پیسے نہ ملنے پر پوری رات نوجوان کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔حلیم عادل نے کہا کہ بابر خانزادہ پولیس کے تشدد سے جان کی بازی ہار گیا ۔ دوسرے روز پولیس اسٹیشن تھانے میں کپڑے سے لٹکی ہوئی لاش ملی۔گزشتہ سال بھی اسی نوجوان کو پولیس نے اغوا کیا تھا اور رشوت لے کر کر چھوڑدیا تھا ۔ سندھ پولیس سندھ حکومت کے کنٹرول میں جاچکی ہے ۔ پولیس منشیات فروشی میں ملوث ہے ۔حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ ابھی تک ڈی آئی جی نے نوٹس نہیں لیا نہ ہی پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر داخل ہوئی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے ایم این اے اور وزرا نے بابر کے گھر جاکر تعزیت کرنے کی زحمت نہیں کی ۔ ہر ضلع سے پیپلزپارٹی کے وزرا کو بھتے ملتے ہیں جس وجہ سے پولیس کے خلاف کیس نہیں بنتا ہے ۔پی ٹی آئی کے رہنما نے مزید کہا کہ سندھ حکومت آج بیواہوں کے حصے میں سے بھی مال کھاتی ہے ۔احساس پروگرام کے مراکز پر پولیس کی بھتاخوری کی وڈیو بنانے پر بھی ایک نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔افسران کی کرپشن اور ناہلی کی وجہ سے پولیس کنٹرول سے باہر ہوچکی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.