پولیس تشدد روکنے کی بجائے آئی جی پنجاب کا انوکھا حکم نامہ، سمارٹ فون پر لگائی پابندی

پنجاب پولیس کی جانب سے شہریوں پر پولیس تشدد کے بڑھتے واقعات کو روکنے کی بجائے آئی جی پنجاب نے تھانوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگا دی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی جی پنجاب عارف نواز نے پنجاب بھر کے تھانوں میں کیمرا والے موبائل فون لے جانے پر پابندی لگا دی ہے، آئی جی پنجاب کی جانب سے حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس کسی کوغیر قانونی حراست میں نہیں رکھےگی ، نہ کسی شہری پرتشدد کریگی،

آئی جی پنجاب کی جانب سے جاری حکمنامہ میں مزید کہا گیا کہ ‏عام شہری سمیت پولیس کاعملہ بھی تھانے میں سمارٹ فون اپنے پاس نہیں رکھےگا،‏ایس ایچ اواورمحررکو اس پابندی سےاستثناء حاصل ہے .

پولیس تشدد سے صلاح الدین قتل، وزیراعلیٰ کا جوڈیشل کمیشن کے لئے ہائیکوٹ کو خط

پنجاب پولیس نہ بدل سکی، پولیس حراست میں تین ماہ میں 5 ہلاکتیں، ذمہ دار کون

دوریش وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی نگری میں پنجاب میں 8 ماہ میں پولیس کی حراست میں 17 ملزمان کی ہلاکتوں کا انکشاف ہوا ہے۔جو ملزم مرنے سے بچ گئے ان میں سے اکثر معذور ہوگئے ہیں اور ابھی تک وہ سامنے نہیں آسکے ان کی تعداد بھی درجنوں میں‌بتائی جارہی ہے ، پنجاب پولیس کی کارکردگی کی قلعی کھل گئی، پنجاب میں 8 ماہ میں پولیس حراست میں 17 ملزمان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، پولیس نے ایک ہلاکت کو خودکشی، ایک کو طبعی موت قرار دے دیا۔

پنجاب پولیس کے غیر قانونی اقدامات اور تشدد سے ہلاکتوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا گیا

ایڈوکیٹ ندیم سرود نے پولیس کی جانب سے صلاح الدین سمیت دیگر پر تشدد کیسز کے خلاف درخواست دائر کر دی ،درخواست میں وفاقی حکومت،پنجاب حکومت ، آئی جی پنجاب اور آر پی او بہاولپور کو فریق بنایا گیا ہے.

اب یہ میرا کیس، ذمہ دار سزا سے نہیں بچ پائے گا، وزیراعلیٰ پنجاب کی صلاح الدین کے اہلخانہ سے گفتگو

لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ رواں سال پولیس کے تشدد سے 7 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ، پولیس نے نجی ٹارچر سیل قائم کر رکھے ہیں جہاں اذیت ناک تشدد کیا جاتا ہے .چند روز قبل صلاح الدین کو اے ٹی ایم چوری کیس میں گرفتار کیا گیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کے تشدد سے صلاح الدین زندگی کی بازی ہار گیا ۔

صلاح الدین قتل، سپریم کورٹ از خود نوٹس لے، مطالبہ آ گیا

درخواست میں مزید کہا گیا کہ لوگوں کی زندگی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے ریاست عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے ۔لاہور ہائیکورٹ 2015 سے اب تک جتنے بھی لوگ پولیس تشدد سے ہلاک ہو چکے ہیں انکا ریکارڈ طلب کرے. ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پولیس تشدد واقعات میں ملوث پولیس اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دے۔ عدالت پولیس ملزمان کا ماڈل کورٹ مقدمہ چلانے کا حکم دے ۔ عدالت پنجاب ٹربیونل آف انکوائری آرڈیننس کے تحت انکوائری کمیشن مقرر کرے جو پولیس ٹارچر سے ہوئی ہلاکتوں کی تحقیقات کرے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.