fbpx

کوئٹہ میں طلبا پرپولیس تشدد،احتجاج جاری:حکومت نے بڑا اعلان کردیا

کوئٹہ :طلبا پرپولیس تشدد،احتجاج جاری:حکومت نے بڑا اعلان کردیا ،اطلاعات کے مطابق کوئٹہ میں طلباء کے احتجاج پر پولیس کی لاٹھی چارج، تشدد اور درجنوں طلبہ کی گرفتاریوں کے خلاف تربت پریس کلب کے باہرآج صبح 11 بجے بی ایس او اور بی ایس او پجار کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا ۔ سیاسی و سماجی کارکنان نے شرکت کی

پاکستان میڈیکل کمیشن کے خلاف کوئٹہ میں دھرنے پر بیٹھے پرامن طلباء پر پولیس نے گزشتہ شب حملہ کرکہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور سو سے زائد طلباء کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جس کے ردعمل میں آج بھی کوئٹہ میں طلباء سراپا احتجاج ہیں اور ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

طلبہ کی گرفتاریوں، ان پر تشدد کے خلاف اور پی ایم سی کے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کے ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے لیے اختیار کردہ پالیسیوں پر ملک کے مختلف مقامات پر طلبہ و طالبات نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا کیا ہے۔

پی ایم سی آن لائن ٹیسٹ سے متاثرہ طلبا پر کوئٹہ میں پولیس کا لاٹھی چارج، ہوائی فاٸرنگ اور درجنوں طلبا گرفتار۔ 300 طلباء پر ایف آئی آر درج، گرفتار طلباء تھانے میں بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں

 

 

دوسری طرف بلوچستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ میڈیکل سٹوڈنٹس کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے لی گئی ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق ’میڈیکل سٹوڈنٹس کی امتحانات سے متعلق شکایات، تحفظات کی بابت پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) حکام سے معاملہ اٹھا رہے ہیں۔‘

معاملے سے متعلق کی گئی ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’طلبہ و طالبات کے جائز مطالبات پی ایم سی تسلیم کر کے مسئلے کا حل نکالے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!