fbpx

پولیس اہلکار کا اختیارات سے تجاوز

قصور
پولیس وردی میں ملبوس حوالدار محمد سجادںاختیارات کا ناجائز استعمال کرنے لگا متاثرہ شخص کی ڈی پی او قصور سے انصاف کی اپیل

تفصیلات کیمطابق پولیس کی وردی میں ملبوس حوالدار محمد سجاد نے قصور نیوبائی پاس کے قریب دربار بابا گلو شاہ کے قریب ایک حویلی بنا رکھی ہے جہاں اسنے اپنے جائز و ناجائز کاموں کیلئے محمد جمیل نامی شخص جیسے چند کارندے رکھے ہوئے ہیں۔جو کہ اسکی بھینسوں کو چارہ وغیرہ ڈالنے کیساتھ ساتھ منشیات فروشی،شراب فروشی،جسم فروشی کیساتھ ساتھ ریٹائرڈ پولیس افسران کیساتھ ملکر ان کارندوں کے ذریعے غریب افراد کی ملکیتی زمینوں پر قبضہ کروا کر اسے سستے دام پر خرید کر آگے فروخت کرنے کر رہا ہے۔گزشتہ روز بھی حوالدار محمد سجاد نے محمد شفیق نامی شہری کا ریڑھا اور گھوڑا اسکے کے کزن کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد چھین کرفرار ہوگئے اورلیجاکر اسے پولیس حوالدارمحمد سجادکی حویلی میں باند ھ لیا۔جس پر محمد شفیق نے پولیس حوالدار محمد سجاد کیخلاف تھانہ صدر میں درخواست دیدی۔جس پر متعلقہ تھانہ کے پولیس افسران نے اپنے پیٹی بندبھائی کو سپورٹ کرتے ہوئے ابھی تک کسی قسم کوئی قانونی کارروائی نہ کی ہے اور نہ ہی ان سے ریڑھا گھوڑا برآمد کیا ہے۔جس پر شریف شہری محمد شفیق نے دی پی او قصور اور دیگر اعلیٰ افسران سے فوری مدد کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس حوالدار محمد سجاد اور دیگر ملزمان کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لاکر انکوائری کی جائے اور مقدمہ درج کرکے اسکا ریڑھا اور گھوڑا جس کی مالیت پانچ لاکھ ہے برآمد کیا جائے تاکہ سائل کہ اسے انصاف مل سکے۔