fbpx

پولیو ورکرز کی دستک نونہالوں کو معذوری سے بچاؤ کا بہترین راستہ

جنرل ہسپتال میں انسدادپولیو مہم: موبائل ٹیم تشکیل،7کاؤنٹرز 22جنوری تک فنکشنل رہیں گے
پولیو ویکسین کی مسنگ بچوں میں بیماریوں کا پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہے، سوسائٹی کردار ادا کرے
والدین روزانہ صبح 8سے شام4بجے تک بچوں کو پولیو کے قطرے پلا سکتے ہیں:پرنسپل پی جی ایم آئی
پرنسپل پوسٹ گر یجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو ورکرز کی گھر وں پر دستک نو نہالوں کو معذوری سے بچاؤ کابہترین راستہ ہے لہذا والدین اپنے پھول جیسے بچوں کے بہتر مستقبل اور انہیں بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے پولیو ورکرز کی ان ٹیموں سے مکمل تعاون کریں تاکہ اُن کے نو نہالوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے پاکستان کو پولیو فری ملک بنایا جا سکے اور ملک و قوم کا مستقبل بھی محفوظ ہو سکے۔

ان خیالات کا اظہار پروفیسر الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلاتے ہوئے مریضوں و اُن کے لواحقین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پروفیسر صاحبان و دیگر سینئرڈاکٹرز بھی موجود تھے۔ایم ایس ایل جی ایچ ڈاکٹر خالد بن اسلم نے پروفیسر الفرید ظفر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہسپتال میں عوامی سہولت کے لئے 7کاؤنٹر ز اور ایک موبائل ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جو روزانہ صبح8سے سہ پہر4بجے تک والدین کے ساتھ ہسپتال آنے والے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے جبکہ یہ قومی مہم 22جنوری تک فنکشنل رہے گی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل پی جی ایم آئی کا کہنا تھا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ ہمارے ہمسائے ممالک بھی عوامی تعاون کے ساتھ پولیو کی بیماری کا خاتمہ کر چکے ہیں لیکن بد قسمتی سے دنیا کے 3ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے اس مسئلے سے ابھی تک دامن نہیں چھڑا سکے۔انہوں نے کہا کہ پولیو ویکسین کی مسنگ بچوں میں بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتی ہے جبکہ بین الاقوامی برادری بھی اس مرض کے پھیلاؤ کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت نے پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے والے تمام افراد کو بلا تفریق عمر پولیو کے قطرے پلانے لازمی قرار دے رکھے ہیں جو ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔پروفیسرالفرید ظفر نے میڈیا، سول سوسائٹی، علمائے کرام اور سماجی تنظیموں سے وابستہ افراد سے اپیل کی کہ وہ والدین میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے متعلق شعور اجاگر کریں تاکہ اس بیماری کا پاکستان سے بھی جلد از جلد خاتمہ ممکن ہو سکیکیونکہ اس ضمن میں سوسائٹی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں ہمیں انفرادی و اجتماعی طور پر بچوں کو پولیو کی بیماری سے بچاؤ کے قطرے زیادہ سے زیادہ تعداد میں پلانے کو یقینی بنانا ہوگا۔

پنجاب میں انسداد پولیو مہم کا آغاز،وزیراعلیٰ پنجاب نے دیں اہم ہدایات

 تھانہ لاری اڈا کی حدود میں پولیو ٹیم سے بدتمیزی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

پولیو ٹیم پر حملہ،ایک اہلکار شہید، ایک زخمی

مجھے پنجاب پولیو سے پاک چاہیے،جس ضلع میں کیس آیا افسران کیخلاف ایکشن ہو گا، وزیراعلیٰ پنجاب

پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ذمہ دار حکومت،بابر بن عطا کو جیل کو کیوں نہیں بھجوایا گیا؟ شیری رحمان