fbpx

آلودگی کے سبب 2019ء میں دنیا بھر میں 90 لاکھ اموات ہوئیں، لانسیٹ کمیشن رپورٹ

واشنگٹن ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں لوگ جنگ، دہشتگردی، ملیریا، ایچ آئی وی، ٹی بی، منشیات اور شراب سے زیادہ آلودگی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ 2019ء میں 90 لاکھ افراد آلودگی کے باعث ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ 24 لاکھ اموات بھارت میں ہوئیں۔

لانسیٹ کمیشن کی بدھ کے روز شائع ہونے والی نئی عالمی رپورٹ کے مطابق ہوا، پانی اور مٹی میں انسانوں کی پھیلائی گئی آلودگی کی وجہ سے اگرچہ فوری طور پر موت واقع نہیں ہوتی لیکن اس کے نتیجے میں لوگ امراض قلب، کینسر، سانس کے مسائل، اسہال اور دیگر سنگین بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مصنف رچرڈ فویلر کا کہنا ہے کہ 2019ء میں دنیا بھر میں قبل از وقت ہر چھ اموات میں سے ایک یا تقریباً 90 لاکھ اموات آلودگی کے سبب ہوئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آلودگی انسانی صحت اور کرہ ارض کی صحت کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے جبکہ کیمیائی آلودگی بھی ایک اور بڑا عالمی خطرہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق بالخصوص جنوبی اور مشرقی ایشیائی ملکوں میں صنعت کاری کے سبب فضائی آلودگی اور کیمیائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو قبل از وقت اموات کی بڑی وجہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آلودگی کی وجہ سے ہونے والی اموات کے نتیجے میں 2019ء میں 4.6 کھرب ڈالر کا نقصان ہوا جو عالمی اقتصادیات کا تقریباً چھ فیصد ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیڈ، آرسینک، کیڈمیم، پارہ اور جراثیم کش ادویات کی وجہ سے مٹی اور پانی کے آلودہ ہونے کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک سے برآمد کی جانے والی دالیں، سی فوڈ، چاکلیٹ اور سبزیاں بھی آلودہ ہو سکتی ہیں۔ اس کی وجہ سے عالمی فوڈ سیفٹی کو لاحق خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ بچوں کے کھانے پینے کی چیزوں میں بھی نقصان دہ دھاتیں پائی گئی ہیں۔