fbpx

آبادی اور ترقی تحریر: فرح بیگم

کسی بھی ملک کی معیشت کا تعلق اسکی آبادی سے ہوتا ہے ۔مرد اور عورت دونوں اسکا حصہ ہوتے ہیں ۔اگر آبادی بڑھنے کی رفتار ترقی کی رفتار سے زیادہ ہو تو بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں ۔ کیوں کہ آبادی زیادہ ہونے کی وجہہ سے بے روزگاری ،خوراک ،صحت ،تعلیم ،پانی جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ۔ باز جگہ پر عورتیں با اختیار نہیں ہوتی ہیں انکو تعلیم حاصل کرنے نہیں دیا جاتا انکو نوکری نہیں کرنے دی جاتی ، انکو بہت کم سہولتیں دی جاتی ہیں ۔انکو اپنے حق سے محرم کیا جاتا ہے یہ بھی ملک کو پستی میں دکیل دیتا ہے ۔ اگر ہم پاکستان پر نظر ڈالیں تو یہ واضع ہے کہ پاکستان کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے ۔جو ملکی کاموں میں مکمل حصہ نہیں لے پاتی جس کی وجہہ سے ہمارا ملک پستی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ پاکستان میں خواتین اپنا وقت بچے  سمبلنے میں لگا دیتی ہیں اور اپنے بچوں کی پرورش کرنے میں گزار دیتی ہیں ۔ ملک کی آدھی آبادی کو ترقی اور معاشی کاموں سے الگ  رکھ کر اگے نہیں بڑھا  جا سکتا ۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی خواتین کو  مضبوط بنائیں۔ انکو بھی مردوں کی شانہ بشانہ رکھ کر ملک کے لیے کام کرنے دیں ۔ خواتین کی با اختیاری ایک طرف خواتین کو معاشی ،معاشرتی، سیاسی طور پر مضبوط رکھتی ہے ۔ انکی صحت اور زندگی کو محفوظ رکھتی ہے اور ملک کو بھی تحفظ فراہم کرتی ہے ۔
                    پاکستان زیادہ آبادی والے ملکوں میں چھٹے نمبر پر آتا ہے ۔پاکستان کی آبادی تقریباً 20 کروڑ ہے اور اس میں سالانہ 2 فیصد اضافہ ہو رہا ہے ۔آبادی کی جو بھی صورت حال ہو البتہ یہ طہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل سیدھا ہمارے ملک کی معیشت پر اثر انداز ہوں گے ۔ اب تو دیہی آبادی سے نوجوان نسل تیزی سے شہر کی طرف رجوع کر رہی ہے ۔ جس سے رہائش ، بے روزگاری ، اور دیگر مسائل پیدا ہونگے ۔بے روزگاری نہ صرف پرشان کن ہے بلک یہ نہ امیدی اور منشیات کی طرف بھی مائل کرتی ہے ۔ اور اگر انسان کو منشیات کی لت لگ جائے تو وہ اس سے مختلف  کاموں میں پڑ جاتا ہے جیسے چوری چکاری ، امن کی خرابی اور دہشت گردی وغیرہ ۔
                      ہمارا معاشرہ اب بھی مردوں کا معاشرہ ہے ۔جہاں مردوں کو انکی مرضی اور حاکمیت حاصل ہے ۔ خاص طور پر لڑکوں کو اب بھی اہمیت دی جاتی ہے کچھ گھرانے لڑکوں کی پیدائش کے لیے لڑکیوں کی لمبی لمبی لائن لگا دیتے ہیں ۔ اولاد کو اللہ تعالیٰ کی دین سمجھ کر بچوں کی لائن لگا دیتے ہیں اور یہی بڑھتی ہوئی آبادی ،بے روزگاری ،تعلیم کی کمی میں اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے اولاد اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتی ہے پر اسی خدا نے اعتدال کا حکم بھی دیا ہے انسان کو ۔زیادہ اولاد  ماں اور  بچے دونوں کے لیے ٹھیک نہیں ۔ اس سلسلے میں تعلیم بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اور بچوں کی تعلیم کا ویسے بھی اولاد سی سیدھا تعلق ہوتا ہے ۔نیشنل انسٹیٹیوٹ اف پاپولیشن کے مطابق لڑکی جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہو گی اس کا گھرانہ اتنا ہی چھوٹا ہوگا ۔
                        ہمارے ملک میں بے روزگاری ،غربت، مہنگائی ،خوراک،صحت اور تعلیم کے بہت مسائل ہیں ۔ہسپتالوں میں مریضوں کی لمبی لائن لگی ہو ہیں ۔یہ بڑھتی ہوئی آبادی اور گاؤں سے آنے والے لوگوں کی وجہہ سے ضروریات نہ کافی ہیں ۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہہ سی ہمارے ملک میں کمانے والے کم اور کھانے والے زیادہ ہیں ۔ زیادہ آبادی کو اجتماہی طور پر بھی خطرہ ہے جیسے بجلی ،گیس پانی فراہم کرنا بھی ایک اہم اور سنگین مسئلہ ہے ۔ جس کی وجہہ سے فیکٹری بند ہو رہی ہیں ،روزگار ختم ہو رہے ہیں اور پیداوار متاثر ہو رہی ہے ۔فیصلآباد جو کھبی پاکستان کا مانچسٹر بولا جاتا تھا اب وہاں کی صنعتیں بھی بند پڑھی ہیں ۔اس کی وجہہ سے ایک مزدور ، کارخانے اور ملک کی معیشت پر برا اثر ہوا ہے ۔گھروں کو گیس دینے کے لیے فیکٹریوں کی گیس بند کر دی گئی ہے ۔ لوگوں کو بھی فکر نہیں ہیں فیکٹری بند ہوتی ہے تو ہو ۔ مختلف منصوبے جیسے میٹرو ،اورینج ٹرین کی ہر گز ضرورت نہیں تھی لیکن اربوں روپے کے اس میگا پروجیکٹ کو کھڑا کیا گیا جب کہ ترقی ،صحت ،خوراک کے منصوبوں کو رد کر دیا گیا ۔
                     اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ملک کو ترقی پذیر ملک بنائیں۔ ہمیں چاہیے مرد اور عورت دونوں مل کر ملک کے لیے کام کریں اور اپنے ملک کو دیگر مسائل سے نکالیں اور اپنے ملک میں رہنے والوں کی ہر ضرورت پوری کریں ۔ اس میں حکومت کی بھی کچھ ذمہداری ہے کہ وہ مختلف منصوبے بنائیں اور اپنی عوام کو ریلیف مہیا کرے ۔تب ہی معاشرہ ترقی کرے گا ۔

Twitter ID: @iam_farha

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!