fbpx

پورے ملک کی قسمت آپکے ہاتھ میں ہے،چیف جسٹس کا مکالمہ

پورے ملک کی قسمت آپکے ہاتھ میں ہے،چیف جسٹس کا مکالمہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی

چیف جسٹس گلزاراحمدکی سربراہی میں5رکنی لارجربینچ سماعت کررہا ہے ،چیف الیکشن کمشنر دیگرممبران کے ہمراہ عدالت میں پیش ہو گئے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تفصیلی جواب جمع کرادیا،جواب میں کرپٹ پریکٹس روکنے کیلئے خصوصی اقدامات کا بتایا ہے،آن لائن شکایت سننے کا سسٹم شروع کررکھا ہے،انتخابات سے متعلق موصول شکایات پرفوری کارروائی ہوتی ہے

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا، گزشتہ روزجوعدالت نے پوچھا تھا اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا

الیکشن کمیشن کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا کہ سینٹ الیکشن پر آرٹیکل 226 کا اطلاق ہوتا ہے،آرٹیکل 218 کے تحت شفاف الیکشن کرانا ذمہ داری ہے، آرٹیکل 218 کی تشریح سے 226 کو ڈیفیوز نہیں کیا جا سکتا،آرٹیکل 226 کی سیکریسی کو محدود نہیں کیا جا سکتا، خفیہ ووٹنگ میں ووٹ کی تصاویربناناجرم ہے

وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ خفیہ رائے شماری میں ووٹ قابل شناخت نہیں ہوتا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ تو آج سے قیامت تک سیکریسی کی بات کررہے ہیں ایسا نہ توآئین وقانون میں لکھا ہے نہ ہی ہمارے فیصلوں میں،جو ان پڑھ ہیں یا ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے مدد لیتے ہیں انکی سیکریسی کا کیا ہو گا ،الیکٹرانک ووٹنگ بھی قابل شناخت ہے،سائبرکرائم والوں سے پوچھ لیں ہر میسج ٹریس ایبل ہے،

افسوس 2018 کی ویڈیو، لیکشن کمیشن کو نہیں پتہ،کسی کا انتظار نہ کریں، سپریم کورٹ کا چیف الیکشن کمشنر کو بڑا حکم

پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا

نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟

کوئی ایم پی اے پارٹی کیخلاف ووٹ دینا چاہتا ہے تو….سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس کیس،عدالت کے ریمارکس

سیاسی پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہوں توعدالت ان میں نہیں پڑتی،سپریم کورٹ

سینیٹ انتخابات، اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ الیکشن کمیشن نے جواب جمع کروا دیا

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ سیکریسی کامعاملہ الیکشن ایکٹ میں درج ہے سوال یہ ہے کس حد تک سیکریسی ہوگی،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قومی اسمبلی انتخابات کیلئےفری ووٹ کی اصطلاح استعمال ہوئی،سینیٹ انتخابات کیلئے فری ووٹ کی اصطلاح کوشعوری طورپرہٹایا گیا،وکیل نے کہا کہ ہر امیدوار سے ووٹوں کی خریدوفروخت نہ کرنے کا بیان حلفی لیا جائے گا،ووٹوں کو خفیہ رکھنے کا مطلب ہے کہ ہمیشہ خفیہ ہی رہیں گے،کاسٹ کیے گئے ووٹ کبھی کسی کو دکھائے نہیں جا سکتے،اوپن بیلٹ سےانتخابات کرانےکیلئےآئین میں ترمیم کرنا ہوگی،

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 226 صرف ووٹ ڈالنے کو خفیہ رکھنے کی بات کرتا ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے وکیل الیکشن کمیشن سےمکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نےآپ کی بات سن لی، اب آپ جاسکتے ہیں،

سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس،سندھ‌ حکومت کا جواب عدالت میں جمع

سینیٹ انتخابات،پیپلز پارٹی نے ایسا اعلان کر دیا کہ مولانا حیران ہو گئے

سینیٹ میں ٹکٹ کیسے دیئے جائیں گے؟ وزیراعظم کا اعلان

سینیٹ الیکشن، ن لیگ کس کو دے ٹکٹ؟ امیدوار بیتاب ،قیادت پریشان

سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے کونسا قدم اٹھا لیا گیا؟

سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے جاری آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

سینیٹ انتخابات، ٹکٹوں کی تقسیم،پیپلز پارٹی نے بڑا فیصلہ کر لیا

سینیٹ میں بیٹھے لوگ عوام کی نمائندگی نہیں کرتے،سینیٹر فیصل جاوید

سینیٹ ووٹنگ ،اپوزیشن جماعتیں آرڈیننس کے خلاف متحد،پیپلز پارٹی کا ن لیگ سے رابطہ

مولانا دیکھتے رہ گئے، تحریک انصاف کا مذہبی جماعت کے سربراہ کو سینیٹ ٹکٹ دینے کا فیصلہ

سینیٹ الیکشن ،ووٹوں کی خریدو فروخت کی ویڈیو سامنے آگئی

پیسے لینے دینے والی ویڈیو سے سپیکر قومی اسمبلی کا کیا لینا دینا؟ اہم انکشاف

سینیٹ الیکشن، ن لیگ میدان میں آ گئی، وزیراعظم کیخلاف بڑا قدم اٹھا لیا

سینیٹ انتخابات ،انتہائی اہم شخصیات کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا

سینیٹ انتخابات، سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار، بڑا حکم دے دیا

جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ ڈالنے کےبعد خفیہ رکھنے کامرحلہ ختم ہو جاتا ہے،کرپشن کےخاتمے کیلئے الیکشن کمیشن ڈالے گئے ووٹوں کاجائزہ لے سکتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ووٹ فروخت کرنے سے متناسب نمائندگی کےاصول کی دھجیاں اڑیں گی،کوئی جماعت تناسب سے ہٹ کرسیٹیں جیت لے توسسٹم تباہ ہو جائے گا،

چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کیسے تعین کرتا ہے کہ انتخابات متناسب نمائندگی سے ہوئے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ کسی کو ووٹ کاحق استعمال کرنےسےنہیں روک سکتے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آزاد امیدوارجس کو چاہے ووٹ دے سکتا ہے وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آزادانہ ووٹ نہ دیاتوسینیٹ انتخابات الیکشن نہیں سلیکشن ہوں گے،

چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کیا متناسب نمائندگی نہ ہونے سے سینیٹ الیکشن کالعدم ہو جائیں گے،ووٹنگ بے شک خفیہ ہو لیکن سیٹیں اتنی ہی ہونی چاہیئں جتنی بنتی ہیں،چیف الیکشن کمشنر صاحب آپ ابھی تک اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے،اپنا قانون پڑھ کر آپ سب بتا رہے بات کی گہرائی سمجھیں،سب کو پتہ ہے ہمارے سینیٹ کے انتخابات کیسے ہوتے رہے ہیں،

چیف جسٹس گلزار احمد نے چیف الیکشن کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک کی قسمت آپکے ہاتھ میں ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کےوکیل کوکل عدالت میں ہونا چاہیے کیس کسی بھی وقت ختم ہوجائے گا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس بار ادائیگیوں کا طریقہ کار بدل چکا ہے،اب ہنڈی کےذریعے دبئی میں بھی ادائیگیاں ہو رہی ہیں،

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمشنرصاحب ہم صرف آپ کی معاونت کرناچاہتے ہیں،آپ بات کو سمجھ نہیں رہے،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کرپٹ پریکٹس کوروکنے کیلئے الیکشن کمیشن کومتحرک ہونا پڑے گا،چیف جسٹس نے کہا کہ پچھلے سینیٹ الیکشن میں پارٹی کی صوبائی رکنیت کے تناسب سے مختلف نتائج آئے،آپ بتادیں گزشتہ انتخابات سےاب تک کیاکارروائی کی؟ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس کیلئے آئین میں ترمیم کرنا ہو گی،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اب تک وہی بات کررہے ہیں جوپہلے دن کررہے تھے،

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اضافی اختیارات ہیں تاکہ آئین خمیازہ نہ بھگتے،آئین پورے ملک کی اتھارٹیزکوپابند کرتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی معاونت کریں،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت اداروں سےآئینی ذمہ داریاں پوری کرانےمیں دلچسپی رکھتی ہے،

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیاآپ نےوطن پارٹی کیس میں سپریم کورٹ کافیصلہ پڑھاہے؟ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ وطن پارٹی کیس کافیصلہ نہیں پڑھا،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے اتنا اہم فیصلہ نہیں پڑھا توآپ سے کیا بات کریں،عدالتی فیصلے میں الیکشن کرانے کا پورا طریقہ کا ردرج ہے

اٹارنی جنرل خالدجاویدکےدلائل مکمل ہوگئے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالت ماضی میں ووٹ خفیہ رکھنےکے معاملے پرفیصلہ دے چکی،آئین کی کسی ایک شق کوالگ سےنہیں پڑھا جا سکتا، انتحابی عمل کی ہرشق پرعمل پارلیمانی نظام کےمجموعی تناظرمیں ہوتاہے، اراکین اسمبلی اپنی مرضی سےسینیٹ الیکشن میں ووٹ نہیں دےسکتے،متناسب نمائندگی کامطلب صوبائی اسمبلی کی سینیٹ میں عددی نمائندگی ہے

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اگرمتناسب نمائندگی ہی ہے توپھرالیکشن کی کیا ضرورت،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ اکثریت کی حکومت اوراقلیت کی نمائندگی ہوتی ہے،ایڈووکیٹ جنرل کےپی کےدلائل مکمل ہو گئے

عدالت نے کہا کہ کل تین صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلزسمیت دیگرفریقین کوسنیں گے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.