fbpx

ترکی کودعائیں میں یاد رکھنا”#PrayForTurkey”ہردل کی آوازبن گیا،دیکھتے ہی دیکھتےٹاپ ٹرینڈ بن گیا

لاہور:ترکی کودعائیں میں یاد رکھنا”#PrayForTurkey”ہردل کی آوازبن گیا،دیکھتے ہی دیکھتےٹاپ ٹرینڈ بن گیا،اخوت اس کو کہتے ہیں کہ چُبھے جوکانٹا کابل میں توپاکستان کا ہرپیروجوان بے تاب ہوجائے،آج واقعی علامہ اقبال کے اس پُرامید گمان کواہل پاکستان سمیت دنیا بھرکے مسلمانوں نے عملی جامہ پہنا دیا ہے

ترکی جہاں اس وقت 13 مقامات سے اچانک اٹھنے والی آگ استبول سمیت 21 بڑے شہروں میں پھیل گئی،جہاں املاک وجائیداد کے تباہ ہونے کا خطرہ ہے وہاں انسانی جانوں کے ضیاع کوبھی رد نہیں کیا جاسکتا

یہ پریشان صورت حال دیکھ کرترکی کےلیے دعاوں کا سلسلہ دنیا بھر میں شروع یوگیا ، اس سلسلے کی ابتدائی کڑی پاکستان سے جا ملتی ہے جہاں پاکستان کی بیٹی آمنہ امان نے سب سے پہلے اہل وطن سے ترکی کے لیے دعائے خیرکی درخواست کی ہے

یہ انداز اس قدر مقبول ہوا کہ دنیا بھرکے مسلمانوں اورنرم دل انسانوں کے دل کی آواز بن گئی اورہرطرف سے آواز آرہی ہے کہ "ترکی کی حفاظت کےلیے دعاوں کی ضرورت ہے اوریوں پھریہ ہردل کی آواز بن گئی

اس وقت یہی آواز ایک ٹرینڈ بن گیا ہے

سمیرہ نامی ترک بیٹی یہ کہتی ہیں‌کہ وہ اپنے وطن کوایسے جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتی وہ کہتی ہیں‌ کہ میرے ملک کی خیرکےلیے دعا کیجئے
میرے ملک کو جلایا جارہا ہے،ہمارے لوگوں اور جانوروں کے رہائش گاہ تباہ ہوگئے ہیں۔ ہم اپنے لوگوں ، جانوروں ، رہائش گاہوں کو کھو رہے ہیں۔ ہم اپنے سانسوں ، اپنے درختوں کو کھو رہے ہیں ، سمیرہ کہتی ہیں دکھ کی بات یہ ہے کہ آگ بڑی ہوتی جارہی ہے ۔ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ اسے پھیلائیں ، دنیا کو بتائیں

 

اس ٹرینڈ کو ، اس دعا کو ، اس التجا کو پاکستان سے سب سے پہلے اہل وطن کے حضور گوش گزارکیا گیا

 

آمنہ امان جو کہ ایک مصنفہ ہیں اورترک ثقافت اورمعاشرت سے بہت زیادہ میلان رکھتی ہیں ان کی بھی یہ آواز تھی کہ :ترکی میں 13 مقامات سے اچانک اٹھنے والی آگ 21 شہروں بشمول استنبول تک پھیل چکی ہے۔ ترکی کو دعاٶں میں یاد رکھیے اور اللہ سے رحم کی دعا کیجیے۔

 

 

ٹونا نامی ایک ترک صارف کہتے ہیں کہ یہ ایک سازش ہے جسے سمجھنا ضروری ہے

 

وہ کہتے ہیں  کہ حقیقت یہ ہے کہ ترکی نہیں جل رہا ، ترکی کو جلایا جارہا ہے! یہ سمجھنے کے لئے اعلٰی ذہانت کا ہونا ضروری نہیں ہے کہ یہ آگ لگ جاتی ہے۔ آگ لگ بھگ 17 مختلف شہروں میں 58 سے زیادہ مقامات پر جاری ہے اور ابھی تک کچھ نہیں کیا جاسکا۔

 

 

 

 

 

زین اعجاز کہتے ہیں کہ ترکی کو دہشت گرد تنظیموں میں سے ایک نے جان بوجھ کر نذر آتش کیا۔ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے ، جانور اور انسان اپنی جانیں گنوا رہے ہیں اور پورا ماحولیاتی نظام اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اللہ ہمارے ترک بھائیوں کی مدد فرمائے۔