fbpx

ایسا بجٹ پیش کررہےہیں کہ ہرشہری کوریلیف دے سکیں: وزیرخزانہ:ن لیگ حسب عادت شوراورشرپسندی پرمجبور

اسلام آباد:ایسا بجٹ پیش کررہے ہیں کہ ہرشہری کوریلیف دے سکیں:وزیرخزانہ :ن لیگ حسب عادت شوراورشرپسندی پرمجبور ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین قومی اسمبلی میں مالی سال 22-2021 کا بجٹ پیش کر رہے ہیں۔

بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا یہ تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ہم معیشت کے بیڑے کو کئی طوفانوں سے نکال کر ساحل تک لے آئے ہیں، مشکلات تو درپیش ہیں مگر معیشت کو مستحکم بنیاد فراہم کردی گئی ہے۔

دوسری طرف ن لیگ کے ارکان اسمبلی نے حسب عادت اسمبلی میں بجٹ پیش کیے جانے کے دوران شوراورشرپسندی کو ہوا دے رہے ہیں‌

انہوں نے مزید کہا کہ ان مشکل حالات کا مقابلہ کیا اور کامیابی کی طرف گامزن ہیں، یہ کامیابی وزیراعظم کی مثالی قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں کون سے حالات ورثے میں ملے، یہ بات سب کو معلوم ہے کہ بہت زیادہ قرضوں کی وجہ سے ہمیں دیوالیہ پن کی صورتحال کا سامنا تھا۔

بجٹ تقریر پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں ورثے میں 20 ارب ڈالر کا کرنٹ ڈالر کا تاریخ خسارہ ملا، 25 ارب ڈالر کی درآمدات تھیں، اس عرصے کے دوران برآمدات میں منفی 0.4 فیصد جبکہ درآمدات کا اضافہ 100 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شرح سود کو مصںوعی طور پر کم رکھا گیا تھا اور تمام قرضے اسٹیٹ بینک سے لیے گئے جس کی وجہ سے مالیاتی حجم میں شدید عدم توازن پیدا ہوا، اسٹیٹ بینک سے قرضوں کا حجم 70 کھرب روپے کی خطرناک سطح تک پہنچ گیا۔فصلوں کی تاریخی پیداوار سے کسانوں کو 3 ہزار 100 ارب کی آمدنی ہوئی، جس سے آمدنی میں 32 فیصد اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ لارج اسکیل مینوفیکچر کی نمو سے لوگوں کو چھینے ہوئے روزگار میں اضافہ ہوا کیونکہ ایک دہائی سے اس بہتری کی نظیر نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ خدمات کے شعبے میں خاص طور ای کامرس سے آن لائن روزگار میں اضافہ ہوا، فی کس آمدنی میں کووڈ کے دوران 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں میں شاندار اضافہ ہوا، ٹیکس کی 18 فیصد زبردست وصولی ہوئی،اس کی وجہ معشیت کی رواں سال غیرمعمولی کارکردگی ہے، ٹیکس کی نفسیاتی حد 4 ہزار ارب روپے عبور کر چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برآمدات ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں، اس سال برآمدات میں شان دار نمو دیکھنے میں آئی اور14 فیصد اضافہ ہوا۔
ادائیگیوں کے توازن میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہے، 2019 میں فصلیں تباہ ہونے کی وجہ سے غذائی اجناس برآمد کرنا پڑا۔

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں بجٹ کی تجاویز پر تبادلہ خیال اور منظوری دی گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.