قاضی احمد:بیٹی کے قاتل چھوڑنے اور بیٹے کوناجائز مقدمہ میں گرفتار کرنے پر بوڑھی ماں کی پریس کلب میں دُہائی

قاضی احمد،باغی ٹی وی (خبرنگار سائیں بخش سائل)بیٹی کے قاتل کوچھوڑنے اور بیٹے کوناجائز مقدمہ میں گرفتار کرنے پر بوڑھی ماں کی پریس کلب میں دُہائی

سیتا شہر کے نواحی گاؤں محمد رند کی رہائشی بزرگ بیوہ خاتون دھیانی قمبرانی اپنے بیٹے صداقت قمبرانی کے ہمراہ پریس کلب قاضی احمد پہنچ کر پریس کانفرنس کی اپنی بیٹی سات بچوں کی ماں بے نظیر قمبرانی کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے احتجاج کرتے ہووے کھا کہ
گاؤں احمد خان لغاری کے رہائشی پسند قمبرانی سے میری بیٹی بینظیر کی شادی ہوئی تھی جس سے ان کے سات بچے بھی تھے۔

اس کے شوہر پسند قمبرانی نے کسی معمولی بات پر دو ماہ قبل میری بیٹی کو طلاق دے کرگھر سے نکال دیا ، پھرتین دن کے بعد اسے لینے آیاگیا تو میری بیٹی نے اسے کہا کہ آپ نے مجھے طلاق دی ہے اب شریعت میں میرے لیے آپ کے ساتھ چلنا جائز نہیں۔

پہر وہ اپنے تین بھائیوں کے ساتھ آیا اور میرے گھر کے اندر میری بیٹی کو کلہاڑیوں کے وار کر کے قتل کر دیا

میں نے مذکورہ چاروں ملزمان کے خلاف سیتا تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی تھی جس میں ایک ملزم پسند قمبرانی جو کہ میری بیٹی کا شوہر تھا اس کو پولیس نے گرفتار کیا

اس کے بعد انہوں نے پولیس کو بھاری رشوت دے کر میرے بیٹے شوکت قمبرانی کے خلاف اپنی ہی بہن کو قتل کرنے کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی اور پولیس کے ذریعے گرفتار کرا لیا۔

اب مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر میں نے مقدمہ واپس نہ لیا تو ہم آپ کے گرفتار بیٹے کو پھانسی دلوا دیں گیں اور آپ کے چھوٹے بیٹے صداقت کو قتل کروا دیں گیں

میں وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ، آئی جی سندھ و دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کرتی ہوں کہ میری بیٹی کے قتل میں ملوث تین آزاد ملزمان اسماعیل, غلام محمد, آصف قمبرانی کو گرفتار کیاجائے

اور میرے بیٹے کیخلاف بنایاگیا جھوٹا مقدمہ ختم کیاجائے، مجھے انصاف چاہئے اورمجھے ملزمان سے تحفظ بھی دیاجائے۔

Comments are closed.