fbpx

برطانوی شہزادے ہیری نےہیلی کاپٹرحملےمیں25 بےگناہ افغان قتل کردیئے

لندن :برطانوی شہزادے کے ہاتھ بھی افغان عوام کے خون سے رنگین ہیں،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے مظلوم عوام کو خاک و خون میں نہلانے میں جہاں امریکہ سر فہرست ہے وہیں برطانیہ بھی کسی سے کم نہیں ہے بلکہ برطانیہ کے شاہی خاندان نے بھی افغانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے ہیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق ملک کے شاہ چارلس سوم کے چھوٹے بیٹے شہزادہ ہیری نے اپنی آنے والی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں اپاچی ہیلی کاپٹر پائلٹ کی ڈیوٹی کے دوران 25 افراد کو ہلاک کیا۔

شہزادہ ہیری نے اپنی کتاب میں لکھا کہ انہوں نے افغانستان میں دوران ڈیوٹی 6 فضائی مشن کیے۔ 38 سالہ برطانوی شہزادہ نے نیٹو افواج کے دور میں افغانستان کے دو دورے کیے تھے جن میں پہلا فارورڈ ایئرکنٹرولر کے طور پر تھا جبکہ دوسری بار 2012،13 میں جنگی ہیلی کاپٹر اڑایا۔ شہزادہ ہیری نے 10 سال تک برطانوی فوج میں کیپٹن کے عہدے تک خدمات انجام دیں۔

شہزادہ ہیری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دوران ڈیوٹی کی گئی ہلاکتوں پر فخر ہے اور نہ ہی کوئی شرمندگی ہے، جنگی حالت میں مارے جانے والوں کو شطرنج کے مہرے سمجھ کر بساط سے ہٹایا۔شہزادہ ہیری کی متنازع کتاب کی اشاعت رکوانے کیلئے برطانوی شاہی خاندان کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری کی سوانح عمری ’اسپیئر‘ 10 جنوری کو شائع ہورہی ہے۔

واضح رہے کہ شہزادہ ہیری کے کتاب میں شہزادہ ولیم سے متعلق بھی انکشافات اور الزامات ہیں، شہزادہ ہیری نے الزام لگایا ہے کہ شہزادہ ولیم نے 2019 میں گھر میں مجھے مکا مارا اور گھسیٹا۔

شہزادہ ہیری نے کتاب میں یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ شاہی اور اشرافیہ کی روایات کے مطابق پہلا بیٹا ہی اعزازات، طاقت اور خوش قسمی کا وارث کیوں ہوتا ہے؟

واضح رہے کہ افغانستان کے مظلوم عوام کو خاک و خون میں نہلانے میں جہاں امریکہ سر فہرست ہے وہیں برطانیہ بھی کسی سے کم نہیں ہے بلکہ برطانیہ کے شاہی خاندان نے بھی افغانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے ہیں۔