fbpx

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کا خاندان کو لندن سے منتقل کرنے کا فیصلہ

جوڑا ہر ممکن حد تک عام خاندانی زندگی گزارنا چاہتا ہے

برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن نے خاندان کو لندن سے منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

برطانوی شہزادہ کے خاندان کی منتقلی کا اعلان کنگسٹن پیلس کی جانب سے جاری بیان میں کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ دوران تعلیم بچے نارمل زندگی گزار سکیں۔برطانوی شاہی خاندان کے ذرائع کے مطابق شہزادہ ولیم ، کیٹ مڈلٹن اور ان کے بچے لندن سے 25 میل دور ونڈسر کیسل کے ایڈیلیڈ کاٹیج میں قیام کریں گے۔

جاپانی وزیر اعظم کورونا میں مبتلا ہو گئے

اس طرح یہ خاندان ملکہ الزبتھ دوم کے قریب رہنے لگے گا جو ونڈسر کیسل میں ہی مقیم ہیں۔رپورٹ کے مطابق شہزادہ ولیم کی موجودہ رہائش گاہ کنگسٹن پیلس بدستور ان کی مرکزی رہائش گاہ رہے گی۔
جوڑا ہر ممکن حد تک عام خاندانی زندگی گزارنا چاہتا ہے
کنگسٹن پیلس کے بیان میں بتایا گیا کہ تینوں بچوں کا داخلہ ونڈسر کیسل کے قریب لیمبروک اسکول میں کرایا جائے گا۔بیان میں اسکول کے ہیڈ ماسٹر جوناتھن پیری نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ستمبر میں شہزادہ جارج، شہزادی شارلیٹ اور شہزادہ لوئس ہمارے اسکول کا حصہ بن جائیں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ۔

برطانیہ میں مہنگائی کی بلند ترین شرح،تنخواہوں میں اضافے کیلئے پورٹ ملازمین نے…

برکشائر میں رائل ونڈسر اسٹیٹ پر ہونے کی وجہ سے، کراؤن اسٹیٹ پراپرٹی کے طور پر نئے ایڈیلیڈ کاٹیج گھر کو ٹیکس دہندگان کی مالی امداد سے زیادہ اضافی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کاٹیج، جو سائز کے لحاظ سے نسبتاً کمپیکٹ ہے-

1839 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس کا نام ولیم چہارم کی اہلیہ ملکہ ایڈیلیڈ کے اعزاز میں رکھا گیا تھا۔ یہ ملکہ وکٹوریہ اور شہزادہ البرٹ کو پسند تھا، جو گرمیوں میں اپنے بچوں کو وہاں نجی آرام سے لطف اندوز کرنے کے لیے لے جاتے تھے۔

جاپان حکومت کی نوجوان نسل سے زیادہ سے زیادہ شراب پینے کی اپیل