قیدیوں کی مولانا فضل الرحمن کو بددعائیں۔

0
48

شہباز اکمل جندران۔۔۔۔

باغی انویسٹی گیشن سیل۔۔۔۔

 

قیدیوں کی مولانا فضل الرحمن کو بددعائیں۔

مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ سے راولپنڈی اور اسلام آباد میں فراہمی انصاف کا عمل بھی بری طرح متاثر ہواہے۔ہزاروں مقدمات سماعت کے بغیر ہی ملتوی کردیئے گئے۔دوسری طرف جیلوں سے پیشی کے لیے قیدیوں اور حوالاتیوں کو عدالتوں میں لانے کے لیے پولیس موجود نہیں ہے۔جبکہ نامساعد حالات کے پیش نظرعدالتی عملے کی حاضری بھی معمول سے کم ہوگئی ہے۔


راولپنڈی اور اسلام آباد میں سول کورٹس، سیشن کورٹس، ڈرگ کورٹس، کسٹم کورٹس، بینکنگ کورٹس،کنزیومر کورٹس،انسداددہشت گردی کی عدالتیں،ٹرابیونلز اور دیگر سپیشل عدالتوں کی مجموعی تعداد 2سو سے زائد ہے۔جن میں روزانہ سول و فوجداری نوعیت کے 10ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہوتے ہیں۔تاہم جمعرات 31اکتوبر کو اسلام آباد کی تمام سو کے لگ بھگ ماتحت عدالتوں میں کام نہ ہوسکااور جمعہ یکم نومبر کو بھی وفاقی دارالحکومت کی ماتحت عدالتوں میں کام ٹھپ ہی رہنے کا امکان ہے۔دوسری طرف راولپنڈی کی ایک سو سے زائد ماتحت عدالتوں میں جمعرات کو عدالتی امور سست روی کا شکار رہے جبکہ جمعہ کے روز کام مکمل بند رہنے کا امکان ہے۔


جڑواں شہروں کی پولیس کی لااینڈ آرڈر کے حوالے سے مصروفیات کے باعث دونوں شہروں میں عدالتی امور متاثر ہورہے ہیں۔اور نہ صرف قیدیوں اور حوالاتیوں کی جیلوں سے عدالتوں میں حاضری ممکن نہیں ہورہی بلکہ مجموعی طورپر 5ہزار سے زائد قیدی و حوالاتیوں کو جہاں کے مقدمات باقاعدہ سماعت کے بغیر ہی ملتوی ہونے جارہے ہیں۔اور یہ سلسلہ یہیں تک محدود نہیں رہتا بلکہ بلکہ ضمانت کی درخواستیں دینے والے سینکڑوں ملزمان کو بھی مولانا کے مارچ کی وجہ سے قید وبند کی صوبتیں مزید جھیلنا پڑیں گی۔کیونکہ ان کی ضمانت کی درخواستیں پر سماعت آزادی مارچ کے بعد ہی ممکن ہوسکے گی۔

Leave a reply