fbpx

پرائیویٹ اسکولز مافیا تحریر: فرقان اسلم

‏”علم ایک لازوال دولت ہے”
ہمارے مذہب اسلام میں تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ اس لیے کوئی بھی ذی شعور انسان تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ اسی بِنا پر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ معیاری تعلیم حاصل کرے۔ اب بات آجاتی ہے کہ بچے کو کس تعلیمی ادارے میں داخل کروایا جائے۔ ہمارے ملک پاکستان میں دو طرح کے تعلیمی ادارے ہیں سرکاری تعلیمی ادارے اور پرائیویٹ (نجی) تعلیمی ادارے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی سرپرستی حکومت کرتی ہیں لیکن پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا کوئی خاص سرپرست نہیں ہوتا ملی بھگت سے کام چلتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر والدین سرکاری اسکولز سے متنفر نظر آتے ہیں بعض کا ماننا ہے کہ سرکاری اداروں میں سہولیات کا فقدان ہے اور معیار کی کمی ہے۔ اسی اثنا میں وہ پرائیویٹ مافیا کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ چند پرائیویٹ اسکولز تعلیمی معیار پر پورا اترتے ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن نام نہاد پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار ہے جن کا معیارِ تعلیم انتہائی ناقص ہے بلکہ وہ تعلیم کے نام پر کاروبار کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پرائیویٹ اسکولز ہیں جبکہ بہت سے ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔ یہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ اور ہماری عوام بھی انجانے میں ان کے دھندے کا شکار ہورہی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے مگر میں دو اہم مسائل پر بات کرنا چاہوں گا۔

من مانی فیسیوں کا مطالبہ:
پرائیویٹ اسکولز طلبہ اور انکے والدین کو مختلف حیلے بہانوں سے لوٹتے ہیں لیکن سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہر ماہ کے شروع میں والدین کو فیسوں کے نام پہ ہزاروں روپے اسکولز میں جمع کروانے ہوتے ہیں تا کہ انکے بچے تعلیم کی روشنی سے بہرہ مند ہو سکیں۔ چاہے کوئی امیر ہے یا غریب ہے لیکن فیس ہر صورت جمع کروانی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں ہر سال اضافہ ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں۔ پیپر فنڈ اور پیپر کی شیٹوں کے پیسے الگ سے لیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک پیپر کی فوٹوکاپی پر دو یا تین روپے خرچ آتا ہے لیکن پیپر فنڈ ہزاروں میں لیتے ہیں۔

سٹیشنری کا سامان :
اگر آپکا بچہ کسی مہنگے سکول میں زیرِ تعلیم ہے تو صرف ماہانہ فیس کے ساتھ ساتھ اسکول کے پرنٹڈ مونوگرام والی کاپیاں، کتابیں اور دیگر سٹیشنری کا سامان خریدنا بھی آپکی ذمہ داری ہے۔ جس کاپی کی قیمت باہر 30 روپے ہو یہاں پر یہ دوگنا قیمت پر ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کتابیں، یونیفارم اور دیگر سامان بھی انتہائی مہنگے داموں بیچتے ہیں اگر اس کو کاروبار کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ اگر پرائیویٹ اسکولز کا بس چلے تو یہ اس بات کو بھی لازم کردیں کہ آپ کا بچہ جس آٹے کی روٹی کھاتا ہے وہ بھی ہمارے اسکول سے لیا جائے تاکہ اس کی نشوونما بہترین ہوسکے۔

مکتب نہیں دوکان ہے، بیوپار ہے
مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے

ان مسائل کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خلاف ایک موثر ایکشن لیا جائے تاکہ ان کی من مانی بند ہوسکے۔ پرائیویٹ اسکولز انتظامیہ ملی بھگت کرکے اپنا دھندہ چلا رہی ہے جس کا شکار بے چارے سادہ لوح عوام بن رہے ہیں۔ دوسرے ممالک میں پرائیویٹ اسکولوں کا نظام ہم سے کئی گنا بہتر ہے۔ وہاں ہر چیز کا چیک اینڈ بیلنس ہے۔ اگر کوئی اسکول زیادہ فیس وصول کرے یا ان کا معیار اچھا نہ ہو تو فوراً بند کردیا جاتا ہے بلکہ بھاری جرمانہ بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن وطنِ عزیز میں نظام اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسی وجہ سے آج ہم تعلیمی میدان میں بہت سے ممالک سے پیچھے ہیں۔ لٰہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائیویٹ اسکول مافیا کو بے نقاب کیا جائے اور تعلیم کی آڑ میں کاروبار کرنے والوں اور قوم کے معماروں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور بلاوجہ سرکاری تعلیمی اداروں پر تنقید نہ کریں کیونکہ وہ بھی عوام کی بھلائی اور آسانی کے لیے تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ہماری زیادہ تر آبادی مڈل کلاس ہے اس لیے وہ پرائیویٹ اسکولز کی فیس ادا نہیں کرسکتے اس لیے وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولز میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اللّٰہ پاک وطنِ عزیز کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں ہم سب کی مدد فرمائے۔۔۔آمین

‎@Rumi_PK