fbpx

پروفیسر فتح محمد ملک: ایک سادہ لوح عظیم دانشور تحریر: ملک رمضان اسراء

 
پروفیسر فتح محمد ملک جیسے عظیم دانشور ہماری فکری اور نظریاتی رہنمائی کرتے ہیں۔ نئی نسل کو اقبال اور قائد کے نظریہ سے روشناس کرتے ہیں۔ اور نظریہ پاکستان اور اسلام کی صحیح معنوں میں ترجمانی بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک روشن خیال عالم ہیں تو دوسری طرف اعتدال پسند پروفیسر جنکی محفل آپ کو گھنٹوں علم سے بھرپور گفتگو سننے پر مجبور کردے اور اختتام پر آپ کا دل پروفیسر صاحب کی علمی و ادبی نشست چھوڑنے پر اگلی بیٹھک تمنا رکھے۔
تعلیم، ادب، اسلام، پاکستان، اقبال اور قائد اعظم بارے علم سے سرشار ایسا انداز بیان کے آپ انکی سادہ گرفتار کے اسیر ہوجائیں۔ فتح محمد ملک کی زبان و بیان اور عمل و فکر سے ناصرف اقبالیات جھلکتی ہے بلکہ قائد اعظم کا پاکستان اور وسیع النظر اسلامی سوچ کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی ہے۔
پروفیسر فتح محمد ملک 18 جون 1936 کو ضلع چکوال تحصیل تلہ گنگ کے چھوٹے سے گاؤں ٹہی میں ایک غریب کسان ملک گل محمد کے ہاں پیدا ہوئے۔ والد کی تعلیم میٹرک تک تھی لیکن وہ انہیں ہمیشہ تقاریر، مناظرے اور علمی مجالس میں لے جاتے تھے۔ اور گھر میں بھی بچوں کیلئے کتب رکھی ہوئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب فتح محمد ملک کو کالج میں داخلہ کرانے کا وقت آیا تو اس وقت جو آپشن تھا اس میں راولپنڈی کا گارڈن کالج، زمیندار کالج گجرات، گورنمنٹ کالج چکوال اور گورنمنٹ کالج کیمل پور یعنی اٹک تھا۔ لیکن ملک گل محمد نے کیمل پور کالج کا انتخاب کیا کیونکہ وہاں ڈاکٹر غلام جیلانی برگ اور پروفیسر محمد عثمان جیسے ہونہار اساتذہ تھے۔

اب آپ اندازہ لگائیں کہ اس زمانے میں پروفیسر صاحب کے والد گرامی نے عمارت یا فاصلے کو نہیں دیکھا بلکہ یہ دیکھا کہ وہاں تعلیم کون دے رہا ہے جہاں ملک صاحب کے ہم جماعت شفقت تنویر مرزا اور منو بھائی تھے۔ بعد ازاں جب ملک صاحب روالپنڈی کالج ایم اے کرنے کیلئے آئے تو وہاں  منو بھائی اور شفقت تنویر مرزا کے ساتھ مقامی اخبار روزنامہ تعمیر میں ملازمت بھی کی جس کے ایڈیٹر محمد فاضل تھے۔ پھر تینوں بیروزگار ہوگئے تو یہ دوست تقریباً بائیس دن تک لیاقت باغ میں سوتے رہے کیونکہ ان کے پاس بیروزگاری کے سبب رہنے کی جگہ نہیں تھی اور سامنے ایک چائے والا تھا جس کے ساتھ کنٹریکٹ کیا گیا تھا کہ وہ انہیں چائے اور رس دے گا یعنی انہوں نے مسلسل بائیس روز تک بنا روٹی کے چائے اور رس پر کھلے آسمان تلے گزارا کیا۔
اس دوران ریڈیو پاکستان کے کمپیئر طارق عزیز مرحوم کچھ دنوں کیلئے بیمار ہوگئے تو انہوں نے انہیں پیغام بھیجا کہ میری جگہ آپ آجائیں اور خبریں پڑھیں اور منو بھائی کو سکرپٹ رائٹر بنا دیا گیا۔ پھر جب انہیں تنخواہ کا چیک ملا اور یہ پیدل آرہے تھے اور اس وقت ریڈیو پاکستان پشاور روڈ پر ہوا کرتا تھا تو راستے میں ہوٹلوں پر تکہ کڑاہی اور گوشت بنا نظر آیا تو فتح ملک نے ہاتھ پکڑ کر منو بھائی مرحوم سے کہا اس طرف نہیں دیکھنا بلکہ پہلے اپنے اس محسن چائے والے کا ادھار چکانا ہے کیونکہ اس نے بائیس دن تک ہمارے ساتھ تعاون کیا۔
پروفیسر فتح محمد ملک نے اردو اور انگریزی زبان میں درجن بھر کتب لکھی ہیں، جن میں “تعصبات، انداز نظر، تحسین و تردید، فلسطین اردو ادب میں، اقبال فکر و عمل، اقبال فراموشی، اقبال اسلام اور روحانی جمہوریت، فیض شاعری اور سیاست، ن م راشد شخصیت اور شاعری، منٹو ایک نئی تعبیر، ندیم شناسی، انتظار حسین شخصیت اور فن، انجمن ترقی پسند مصنفین، فیض کا تصور انقلاب، اردو زبان ہماری پہچان، پاکستان کا روشن مستقبل، اقبال کی سیاسی فکر، پاکستان کے صوفی شعرا، پنجابی شناخت، اسلام بمقابلہ اسلام” وغیرہ شامل ہیں۔ اور یہ جتنی بھی کتابیں ہیں ساری اکٹھی کرکے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے دو جلدوں میں چھاپی ہیں جن میں ایک کا نام “آتش رفتہ کا سراغ” اور دوسری “کھوئے ہوؤں کی جستجو” ہے۔ یعنی یہ دو کتابیں  باقی تمام کتب کا مجموعہ ہیں۔

اس کے علاوہ مصنف و قلم کار محمد حمید شاہد نے پروفیسر فتح محمد ملک کی زندگی پر “پروفیسر فتح محمد ملک شخصیت اور فن” کے نام سے بھی ایک کتاب لکھی ہے اور انہوں نے پروفیسر صاحب کے مزاج اور عظمت کو یہ کہہ کر جیسے دریا کو کوزے میں بند کردیا کہ: "علامہ محمد اقبال نے نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو جیسے پروفیسر فتح محمد ملک بارے کہا تھا۔ یہ ایسی عظیم اور اعلی طبیعت شخصیت ہیں جس کی کوئی مثال نہیں۔”
پروفیسر فتح محمد ملک کی شادی اپنے آبائی علاقہ عطا اللہ شاہ بخاری کے احراری خاندان کی ذکیہ ملک سے ہوئی تھی جو پڑھی لکھی اور انتہائی عظیم خاتون تھی جن کی تربیت ان کے چاروں بچوں میں جھلکتی ہے، جس میں محمد طارق ملک موجودہ چیئرمین نادرا، پروفیسر طاہر نعیم ملک نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویج اسلام آباد، اور پروفیسر ڈاکٹر عدیل ملک آکسفورڈ یونیورسٹی لندن جبکہ چھوٹی بیٹی سعدیہ ملک بھی پروفیسر ہیں۔
فتح محمد ملک کی رفیق حیات ذکیہ ملک ایک ہاوس وائف خاتون تھیں جو بیماری میں مبتلا ہو کر 1995ء میں جہان فانی سے کوچ کرگئی تو فتح محمد ملک کو رشتہ داروں اور احباب نے مشورہ دیا کہ آپ دوسری شادی کرلیں لیکن ملک صاحب نے انہیں یہ کہہ کر لاجواب کردیا کہ: "یہ تو بہت بڑی زیادتی ہوگی کہ میرے دل میں کوئی اور ہو اور گھر میں کوئی اور۔”
پروفیسر صاحب پر نمل یونیورسٹی، بہاولدین زکریا یونیورسٹی، اور بہاول پور یونیورسٹی میں تین ایم فل ہوچکی ہیں۔ علاوہ ازیں اردو یونیورسٹی میں ان کی علمی، ادبی خدمات پر پی ایچ ڈی کا ایک تھیسس بھی لکھا گیا ہے۔ اور علم و ادب کی بے پناہ خدمات پر 2006 میں ستارہ امتیاز، 2017 میں عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ سمیت مختلف اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ ناصرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی جامعات سے بھی آپ وابستہ رہے۔ جن میں کولمبیا یونیورسٹی، ہیڈلبرگ یونیورسٹی، ہمبولٹ یونیورسٹی، سینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی شامل ہیں۔
پروفیسر صاحب  نے ہمیشہ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے نظریات کو اہمیت دی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ موجودہ وزیراعظم عمران خان سے پہلے نیا پاکستان بنانے کا عزم ذوالفقار علی بھٹو بھی سامنے لائے تھے لیکن ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حقیقی پاکستان کا تصور پیش کیا جائے کیونکہ اس پاکستان کا خواب علامہ اقبال اور قائد اعظم نے دیکھا تھا۔ اور جس پاکستان کیلئے انہوں نے دن رات انتھک محنت کی تھی۔ اور وہ اپنے نظریات کے مطابق یہ سمجھتے تھے کہ حقیقی پاکستان بنانے کیلئے سب سے پہلے پاکستان میں جاگیردارانہ نظام کو ختم کیا جائے۔ سردار اور وڈیرا نظام شاہی وہ چاہے کہیں بھی ہو ختم ہوگا تو عام عوام کو ان کے بنیادی حقوق ملیں گے۔
قائداعظم نے سب سے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ: نسل، رنگ  اور لسانی تصورات کے تعصبات کو ختم کیا جائے۔ ایک دفعہ تحریک پاکستان  کے دوران قائد اعظم ایک بہت بڑے جلسے کی قیادت کررہے تھے تو ان کے کان میں ایک آواز سنائی دی کہ حضرت مولانا قائد اعظم محمد علی جناح زندہ باد اس پر انہوں نے جلوس کو روک کر نعرہ لگانے والوں کو مخاطب کر کے انگریزی میں  کہا میں آپ کا مذہبی رہنما نہیں بلکہ سیاسی رہنما ہوں، اس لیے مجھے مولانا نہ کہیں۔
پروفیسر فتح محمد ملک کہتے ہیں کہ: کاش جنرل ضیاء جیسی ذہانت کے لوگ اس جلسہ میں شریک ہوتے اور قائد کے اس فرمان سے سبق اندوز ہوتے۔
ہمارے ہاں موسیقی کو اسلام سے دوری سمجھا جاتا ہے لیکن پروفیسر صاحب ایک واقعہ سناتے ہیں کہ میں ہیڈلبرگ  یونیورسٹی میں ایک کلاس میں پڑھا رہا تھا جس میں اس سمسٹر کا مضمون تھا Muslim thoughts and South Asia تو وہاں ایک خاتون مجھ سے ملنے آئی اور وہ گیٹ پر میرا انتظار کررہی تھی، میں جیسے باہر نکلا تو انہوں نے کہا کہ جناب میں آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی اور بتانے لگی "میں میڈکل کی طالبہ ہوں۔” انتظار کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی مجھے آپ کی اجازت چاہئے تاکہ آپ کی کلاس میں، میں بھی بیٹھ سکوں؟  کیونکہ میں اسلام سے متعلق جاننا چاہتی ہوں۔ جس پر میں نے انہیں کہا خوش آمدید، ضرور آئیں اور پھر اس نے اپنا ایک واقع سنایا کہ: میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ایک پب میں بیٹھی تھی اور وہاں ایک میوزک لگا ہوا تھا اور اتنا لطیف میوزک تھا، بہت اعزاز کی کیفیت تھی۔ خیر میں نے سمجھا کہ شائد میں زیادہ (شراب) پی گئی ہوں اس لیے یہ کیفیت ہے۔ لیکن دوسری صبح میں نے سوچا اب دوپہر کو جاونگی وہاں دوپہر کا کھانا کھاوں گی اور ان سے اسی موسیقی کی فرمائش کروں گی۔  تو انہوں نے جب وہ میوزک لگایا تو وہی کیفیت وہی وجد طاری ہوگیا تو میں حیران ہوئی اور ان سے جاکر پوچھا کہ: یہ کس ملک کا میوزک ہے اور یہ موسیقار کون ہیں تو انہوں نے کہا یہ پاکستانی میوزک ہے اور نصرت فتح علی خان وہاں کے بہت بڑے موسیقار ہیں یہ ان کی گائیکی ہے۔ پھر میں نے کہا یہ پاکستان سے کسی کو کہہ کر منگوانا پڑے گا، جس پر جواب ملا نہیں باہر جاکر کسی موسیقی کی دوکان پر یہ نام بتائیں اور آپ کو مل جائے گا۔ میں نے جاکر خرید لیا اب یہ سنتی ہوں اور بہت لطف اندوز ہوتی ہوں  اور پھر سوچا کہ مجھے اسلام کے بارے میں کچھ سمجھ ہونی چاہیے۔ اور میں اس لیے آپ کے پاس آئی ہوں۔
جہاں پر پروفیسر صاحب نے وضاحت کی موسیقی بھی اللہ کی دین ہے اور یہ سننے اور گانے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے کس زاویہ سے سنتا ہے۔
ملک صاحب نے ناصرف اقبال کے نظریہ پر چلتے ہوئے اس ملت کو بحث تنقید بنایا جس کے بارے میں اقبال نے فرمایا تھا کہ “نیم حکیم خطرہ جان؛ نیم ملا خطرہ ایمان، دین کافر فکر و تدبیر و جہاد، دین  ملا  فی سبیل اللہ فساد” بلکہ جب فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو نے آپ ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کئے تو اس سے متعلق ایک مضمون بعنوان ” آزادیء اظہار یا آزادی آزار” لکھا اور اس میں متذکرہ بالا جریدے اور فرانسیسی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے اس عمل کو صحافتی دہشت گردی قرار دیا اور فرانسیسی قیادت کو اس قبیح حماقت پر ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری جیسے القابات سے مخاطب کیا۔ اور یہ مضمون مصنف کی کتاب “چچا سام اور دنیائے اسلام” میں بھی موجود ہے۔
قارئین آپ کو ان کی تحاریر پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ یہ مذہبی انتہاپسندی اور لبرل فاشزم دونوں کے خلاف ہیں ایک اعتدال پسند یعنی پروگریسو مسلمان ہیں۔ تبھی تو ان کی مسلسل یہی کوشش رہی ہے کہ نئی نوجوان نسل میں وہ اپنی قلم کے ذریعے حقیقی پاکستان، اسلام اور علامہ اقبال و قائد کی روح پھونک سکیں۔ چونکہ نوجوان نسل ہی قوم و ملک کا مستقبل ہوتی ہیں تو اگر ان کے دل اقبال اور قائد کے فکر و عمل سے صحیح معنوں میں سرشار ہونگے تو تب جاکر کہیں حقیقی پاکستان کا تصور عمل میں لانا ممکن ہوگا۔
 پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی عمر اب 85 سال کو پہنچ گئی جس میں 55 سال اور علم ادب کی خدمات میں گزرگئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے لہذا اس عظیم دانشور کی بے بہا خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے یہ تحریر بالکل ناکافی ہے کیونکہ یہ احقر ایک علم کے پہاڑ کے سامنے مٹی کا ایک زرا ہے۔ بس دعا ہے کہ اللہ تعالی ایسے دانشوروں کا سایہ ہم طلبہ اور انکے بچوں پر ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین