پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ،من گھڑت رپورٹس اقوام متحدہ بھارتی زبان بولنے لگا

لاہور:پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ،من گھڑت رپورٹس اقوام متحدہ بھارتی زبان بولنے لگا،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے خلاف بھارتی پراپیگنڈہ اس قدراثردکھانے لگا ہے کہ اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی بھارتی پراپیگنڈے کا شکارہوگیا ہے

ذرائع کے مطابق بھارتی میڈیا پاکستان میں جبری مذہب تبدیلیوں کے حوالے سے مسلسل جھوٹ بول رہا ہے، بھارتی میڈیا کا کہنا ہےکہ ہرماہ 20 سے 25 ہندو یا عیسائی لڑکیوں سے شادی کرنے کے لیے جبری طورمسلمان کررہے ہیں

باغی ٹی وی کے مطابق یہ پراپیگنڈہ غیرملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز کی طرف سے پہلے شروع کیا جاتا ہے پھربھارتی میڈیا اس کوجوازبناکرپاکستان کی کردار کشی کرتا ہے

ذرائع کے مطابق 2010 سے یہ سلسلہ جاری ہے اوررابعہ نامی خاتون کی رپورٹ کا ہرجگہ حوالہ دیا جاتا ہے ،جبکہ سچ یہ ہے کہ یہ رابعہ نامی کردار سراسرجھوٹ بول رہا ہے ،

پھر یہ سلسلہ ادھر ہیں رکا بلکہ پاکستان ہیومن رائٹس آف کمشین جیسی بے لگام این جی او بھی یہ ڈیٹا اپنی رپورٹس میں شامل کرنے لگی ہے،اس این جی او نے اپنی ویب سائٹ پراس رپورٹ کولگاکردنیا بھرمیں ایسی این جی اوز کوٹرانسفر کیا جوپہلے ہی ہندواورہندوستان نوازتھیں اورہیں

ان مغربی این جی اوز نے اسی رپورٹ کوبنیا بنا کر پورے مغرب میں پاکستان کے خلاف بہت خطرناک پراپیگنڈہ کیا

اس پراپیگنڈے نے کس حدتک اپنا اثردکھا اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ بھی ایک غیرمعروف این جی او”شرکت گاہ” کی رپورٹ کو بنیاد بنا کرپاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کررہا ہے کہ پاکستان میں ہرماہ 15 سے 25 غیرمسلم لڑکیوں کوجبری مسلمان کرکے پھر ان سے شادیاں کی جاتی ہیں‌

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے تین سال سے تین سے چارواقعات ایسے ضرور رونما ہوئے ہیں لیکن وہاں بھی جبری مسلمان نہیں کیا گیا بلکہ اسلام قبول کرنے والی لڑکی نے بلاخوف وخطریہ دعویٰ کیا کہ وہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کررہی ہیں اوراپنی مرضی سے شادی کررہی ہیں

اس کے باوجود دنیا پاکستان کی ان تین سے چار لڑکیوں‌ کے موقف کوتسلیم کرنے سے انکارکرتے ہیں ، اس کی وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ یہ پراپیگنڈہ حادثاتی نہیں بلکہ ایک طئے شدہ منصوبے کا حصہ ہے اوراس کے پیچھے وہ سوچ ہے جودین اسلام کی شروع دن سے مخالف ہے

اس سارے کھیل کومنظم اورمربوط انداز پاکستان کے خلاف بھارت کی سرزمین سے انتہا پسند ہندوحکومت اورہندو جماعتیں باقاعدہ ایک فریضے کے طورسرانجام دے رہی ہیں ،

باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی رپورٹس اوراطلاعات کے مطابق پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے متعصب ہندوتوا کے پیروکار اس طرح کی تمام اطلاعات کو دوبارہ پیش کرتے ہیں۔ 2020 تک پاک کو بدنام کرنے کیلئے تقریبا 30 30 لاکھ ٹویٹس تیار کی گئیں۔ بی جے پی نے لاکھ لاکھ کی درجہ بندی کے ساتھ چار لاکھ 14 ہزار ویڈیوز سوشل میڈیا پر پیش کیں

باغی ٹی وی کےمطابق اس خطرے کو ملکی ادارے تو بھانپ چکے ہیں اوربعض دائیں بازو کی جماعتیں بھی اسلام اورپاکستان کے خلاف اس گھنونے کھیل کوجان چکے ہیں

مگرپاکستان کوجہاں بیرونی قوتوں اوراقوام متحدہ جیسے اداروں کی طرف سے پریشانی کا سامنا ہے وہاں کچھ سیاسی جماعتیں بھی اس کھیل کاحصہ بن کردشمن کے ایجنڈے کوتقویت دینے میں اپنا حصہ ڈال رہےہیں‌ جو کہ اچھی بات نہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.