مسلم مخالف قانون کےخلاف احتجاج کا 22 واں دن،محمدعلی جوہرمارگ پرآرٹسٹوں کی پینٹنگ

0
50

نئی دہلی:مسلم مخالف قانون کےخلاف احتجاج کا 22 واں دن،مولانا محمد علی جوہر مارگ پر آرٹسٹوں نے پینٹنگ،بھارت سے آمدہ اطلاعات کےمابق شہریت ترمیمی ایکٹ، سی اے اے اور این پی آر کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کے احتجاج 22 ویں‌دن داخل ہوگیا ہے،

معیشت بہترہونے لگی ، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح بڑھ گئی 

طلبہ نت نئے طریقوں سے اپنا احتجاج درج کرا رہے ہیں۔ کل جہاں پورا ملک نئے سال کی آمد پر جشن منارہا تھا وہیں جامعہ کے شاہین انقلاب زندہ باد کے نعرے لگا کر ملک کے سیکولر تانے بانے کی برقراری کا عہد کررہے تھے ۔ آج جامعہ کے طلبہ نے فاشسٹ حکومت کی مخالفت میں سڑکوں پر تصویریں بناکر اپنا احتجاج درج کرایا۔

 

ارکان اسمبلی اپنے اثاثے ظاہرکرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگے، 563 ارکان کی فہرست…

جامعہ کیمپس میں آرٹسٹ وفنکاراپنے فن اورہنرکے ذریعہ شہریت قانون کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں آرٹسٹوں نے اپنے فن کا نمونہ پیش کرتے ہوئے انوکھا احتجاج درج کرایا۔کئی فنکاروں نے شیطان کی تصویر بنائی ہے جس میں وہ دستور کودانتوں سےکتررہا ہے،توکچھ فنکاروں نے پتھرکی لکیرکو دکھانے کے لئے ایک پتھربنایاہے ،

 

 

ٹرانسپورٹرزکامیاب ، جرمانوں میں اضافہ معطل توہڑتال بھی ختم

جبکہ ساتھ ہی معماردستور بھیم راؤامبیڈکرکے ہاتھ میں ایک ہتھوڑہ بنایا گیاہے جس کے ذریعےوہ اس پتھر کی لکیر یعنی پتھرکوتوڑ رہے ہیں۔اسی طرح سے لوگوں کے احتجاج کو دکھانے کے لئے یہ پینٹنگز بنائی گئی ہیں ساتھ ہی این آر سی کولے کر چل رہے تنازعے میں کچھ اس طرح کی پینٹنگز بھی بنائی گئی ہیں جن میں وقت دستاویزات اور کاغذات کو کھارہا ہے۔

 

عیاش مصری شوہر نے سوشل میڈیا پر’بیوی کے تبادلےکی گھٹیا پیشکش کردی

پینٹنگ بنانے والے آرٹسٹوں کا کہنا ہے کہ وہ شہریت قانون کے خلاف اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔ادھر طلبہ جامعہ نے اپنے احتجاج انوکھا بناتے ہوئے روڈ سائیڈ اسکول فار روولیوشن کے نام سے مہم شروع کی ہے یہ مہم اسکول نہ جانے والے بچوں کےلیے شروع کی گئی ہے خاص بات یہ ہے کہ یہ اسکول جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر موقع احتجاج پر چلایا جارہا ہے،

 

 

کوئٹہ میں موسم سرما کی پہلی برف باری کے بعد وادی کا منظر دل کش ہوگیا

ذرائع کےمطابق اس انوکھے احتجاج میں‌ بچوں کو پڑھنا سکھایاجارہا ہے، یہ اپنے آپ میں ایک نیا تجربہ ہے اور آنے جانے والے احتجاجیوں کے لیے یہ موضوع بحث اور توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وہیں دہلی پولس کی لائبریری میں کارروائی اور توڑ پھوڑ کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری کے باہر طلبہ کی جانب سے مخالفت درج کرانے کےلیے ایک لائبریری چلائی جارہی ہے جسے روڈ فار روولیوشن کا نام دیاگیا ہے۔

Leave a reply