fbpx

پی ٹی اے کا فوری کرپٹو کرنسی ویب سائٹس کو بلاک نہ کرنے کا فیصلہ

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے فوری طور پر کرپٹو کرنسی ویب سائٹس کو بلاک نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق پی ٹی اے نے کرپٹوکرنسی ویب سائٹس کے حوالے سے وزارت آئی ٹی سے رائے بھی مانگ لی ہے پی ٹی اے حکام کے مطابق ایف آئی اے نے 1 ہزار 540 کرپٹو کرنسی ویب سائٹس بلاک کرنے کے لیے بھیجیں ہیں تاہم اس سے متعلق قانونی حوالہ کمزور ہے۔

کیپٹن (ر) صفدر سمیت 5 لیگی رہنما اشتہاری قرار

پی ٹی اے حکام کے مطابق اسٹیٹ بینک کےسرکلرکو بنیاد بنا کر ساری ویب سائٹس بند نہیں کی جا سکتیں، جب تک کوئی میکانزم نہیں بنا لیتے ویب سائٹس بند نہیں ہوں گی۔

پی ٹی اے حکام کے مطابق ڈیجیٹل کرنسی کا مستقبل کیا ہو گا، متعلقہ اداروں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان نے 2021 میں تقریباً 20 ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی کی قدرریکارڈ کی جو ملکی وفاقی ذخائر سے زائد ہے پاکستان 21-2020 میں کرپٹو کرنسی کو اپنانے والا تیسرا بڑا ملک رہا ہندوستان اور ویتنام پہلے اور دوسرے نمبر رہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا تھا کہ رواں سال پاکستان میں کرپٹوکرنسی کی مالیت 711 فیصد بڑھی ہے چھوٹے سرمایہ کاروں کی آمد،بہت زیادہ لیوریج کی دستیابی اور لین دین کی کم لاگت کے باعث کورونا وبا کے دوران بھی کرپٹو کرنسیز کو پذیرائی ملی ہے۔

استاد کے ہاتھوں 12 سالہ بچی قتل،ملزم گرفتار

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی سرمایہ کاروں کے ذریعے استعمال ہونے والا سب سے بڑا کرپٹو ایکسچینج بائننس ہے اس کے علاوہ دیگر مشہور پلیٹ فارمز جیسے کہ لوکل بٹ کوائنز ڈاٹ کام اور بائینوموو دیگرکا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں تقریباً 67 فیصد سرمایہ کار مرکزی خدمات کا استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ صرف 33 فیصد لین دین کے لیے دوسرے پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔

بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے استعمال ہونے والے روایتی ذرائع جیسے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز ان کرنسیوں کی خریداری کے لیے استعمال نہیں کیے جاسکتے۔اس لیے زیادہ تر سرمایہ کار بینک ٹرانسفر کا استعمال کرتے ہیں یا جاز کیش اور ایزی پیسہ جیسے متبادل ذرائع استعمال کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 2018 میں اعلان کیا تھا کہ بٹ کوائن جیسی ورچوئل کرنسیاں ضمانت یافتہ قانونی حیثیت نہیں رکھتیں۔ ورچوئل کرنسیوں کو تسلیم نہ کیے جانے کے باوجودکرپٹو کرنسیوں میں پاکستانیوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

وزیرستان: سیکیورٹی چیک پوسٹ میں گھسنے کی کوشش ،جوابی کاروائی میں دہشت گرد ہلاک