fbpx

ماڈٌل ٹاؤن میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ کے گھر چھاپہ،دوران فائرنگ پولیس اہلکار شہید،ملزمان اسلحہ سمیت گرفتار

لاہور: ماڈل ٹاؤن میں پاکستان تحریک انصاف ایکٹیوسٹ کیخلاف پولیس کے کریک ڈاؤن کے دوران فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق لاہور کےعلاقہ ماڈل ٹاؤن میں پاکستان تحریک انصاف کیخلاف پولیس کےکریک ڈاؤن کےدوران فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہوگیا-

اب يہ وائٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے گا، مریم نواز

کانسٹیبل کمال احمد کو سینے پر گولی لگی، زخمی کانسٹیبل کو طبی امداد کے لیے لاہور جنرل ہستپال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا پوسٹ مارٹم کے بعد نماز جنازہ کا علان کیا جائے گا-

پولیس ریکارڈ کے مطابق کانسٹیبل کمال گرین ٹاون بلاک نمبر 3 کا رہائشی تھا کانسٹیبل کمال تھانہ ماڈل ٹاون میں فراض سرانجام دے رہا تھا کانسٹیبل کمال احمد ماڈل ٹاؤن میں تعینات تھا کمال احمد نے اپریل 2007 میں پولیس فورس جوائن کی تھی انہوں نے سوگواران میں 3 بیٹے 2 بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

وزیراعظم کی آج جے یو آئی کے ارکان پارلیمنٹ کو ظہرانے کی دعوت،ن لیگ کا اجلاس بھی…

ڈی آئی جی آپریشنز بھی جنرل ہسپتال پہنچےڈی آئی جی آپریشنز سہیل چوہدری نے کہا کہ ماڈل ٹاون سی بلاک 112 میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ ساجد بخاری کے گھر کریک ڈاؤن کیا گیا، ریڈ پر مزاحمت کی گئی اور چھت سے2 فائر کیے گئے جواہلکا رکےسینے میں لگے، انہوں نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے اور اہلکار کو شہید کرنے والے کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا-

ساجد بخاری

‏بریکنگ نیوز، پولیس حماد اظہر کو گرفتار کرنے ان کے گھر پہنچ گئی

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے حمزہ شہباز نے ہلاک ہونے والے اہلکار کے ورثاسے اظہار تعزیت کی اور کہا کہ فائرنگ کرنے والے افراد کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا قانون ہاتھ میں لینے والو ں کے خلاف بلا تفریق کارروائی عمل میں لائی جائے گی-

عکرمہ بخاری
پولیس نے ملزمان ساجد بخاری اور اسکے بیٹے اکرمہ کو گرفتار کر لیا اسلحے سمیت گرفتار کر لیا ہے پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ باپ بیٹا فائرنگ کا اعتراف کررہے ہیں، فرانزک کے بعد قاتل کی نشاندہی ہو جائے گی-

ملتان میں پولیس کریک ڈاون ،پی ٹی آئی کے 70 سے زائد کارکنان گرفتار

پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ پولیس کی جانب سے بوقت1:40 بجے رات بسلسلہ سرچ آپریشن کرایہ داری کیا گیا جب سی بلاک میں سید ساجد حسین بخاری کے گھر بیل دی گئی تو ساجد حسین نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا اس وقت میرے گھرکیوں آئے ہو ؟-

ایف آئی آر کے مطابق جوابا پولیس نے بتایا کہ ہم کرایہ داری کے سلسلے میں سرچ آپریشن کر رہے ہیں جس پر دونوں باپ بیٹا طیش میں آگئے اور پولیس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور ساجد حسین نے اپنے بیٹے عکرمہ کو کہا کہ پولیس پارٹی پر سیدھی فائرنگ کرو جس پر عکرمہ نے جان سے مار دینے کی نیت سے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی جو ایک فائر گھر کے باہر کھڑے کا نسٹیبل کمال احمد کو سینے پر دائیں جانب لگا کمال احمد زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا ساجد حسین نے بھی اپنے دستی اسلحہ سے پولیس پر فائر نگ کہ جو ایک فائر سرکاری گاڑی نمبر LEG-1914 پر بھی لگا ہم نے سرکاری گاڑی اور دیوار کی اوٹ لے کر جانیں بچائیں-

ایف آئی آر کے متن کے مطابق عکرمہ بخاری اور سید ساجد حسین بخاری نے پولیس پر حملہ آور ہو کر جان سے مار دینے کی نیت سے سیدھی فائرنگ کر کے سرکار میں مزاحمت کرنے اور کانسٹیبل کمال احمد کو قتل کرکے سرکاری گاڑیبکو نقصان پہنچا کر اررکاب جرم 302/34/324/186/353/427ATA ت پ کا کیا ہے –