fbpx

پی ٹی آئی کور کمیٹی کی وزیراعلیٰ کیلئے پرویزالٰہی کے نام کی توثیق، 14 ووٹوں کی برتری کا دعویٰ

سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے پی ٹی آئی کے ارکان پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید، سبطین خان، علی عباس اور دیگر کے ہمراہ پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ پہلے ہی اپنا اصل چہرہ دکھا چکی ہے، ہم حیران تھے کہ حمزہ شہباز کیسے خاموش بیٹھا ہے، حمزہ شہباز اس قابل ہی نہیں رہا کہ سیاست کر سکے، ن لیگ نے رانا ثناء اللہ جیسے غلط کام کرنے والے بندے کو وزیر داخلہ بنایا جو خود اب ان کے قابو میں بھی نہیں آ رہا۔

ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی سے4 سیٹیں چھینی ہیں:مریم نواز

چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ شریفوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا، مریم صفدر نے الیکشن میں ہار تسلیم کر کے بڑا اچھا بیان دیا ہے، ملک میں مہنگائی عروج پر ہے، مفتاح کا مفتا لگا ہوا ہے، ابھی بھی آئی ایم ایف سے انہیں کچھ نہیں ملا، رانا ثناء اللہ اداروں کو ہمارے خلاف استعمال کررہا ہے، رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم 5 بندے یہاں وہاں کر دیں گے جو عدالتی حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، اس حوالے سے ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ آئی بی کو بھی پولیس کی طرح استعمال کر کے ہمارے ارکان اسمبلی کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سوال پر چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ 22 جولائی کو سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ سب سے پہلے وزیراعلیٰ کا الیکشن کروایا جائے اس کے بعد آئی جی اور چیف سیکرٹری کو صرف ہٹانا ہی نہیں ان کو سزا بھی دینی ہے۔

 

پرویز الٰہی کی وفاقی وزرا اور حمزہ شہباز کیخلاف توہین عدالت کی درخواست

 

تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ پی ٹی آئی کور کمیٹی کے ارکان نے وزیراعلیٰ بنانے کیلئے چودھری پرویزالٰہی کے نام کی توثیق کر دی ہے، کل تک ہمارے نو منتخب ارکان کا حلف ہو جائے گا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے ہمیں 14 ووٹوں کی برتری حاصل ہے، ن لیگ شکست تسلیم کرتے ہوئے ہمارے مینڈیٹ کو تسلیم کرے، ن لیگ، بیورو کریٹس اور پولیس کو وارننگ دیتا ہوں کہ کوئی غیر قانونی کام نہ کریں۔

معروف قانون دان عامر سعید راں نے کہا کہ ادارے رانا ثناء اللہ کے بیان کا نوٹس لیں، انٹیلی جنس بیورو نے بیرون ملک سے آنے والے چودھری پرویزالٰہی کے ذاتی دوست کو اغوا کر کے ان کے خلاف بیان لینے کی کوشش کی اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی زیرصدارت شروع ہوا۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت شریف کے بعد ڈپٹی اپوزیشن لیڈر محمد بشارت راجہ نے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے موقع پر حکومتی اداروں کی مداخلت کے خلاف قرارداد پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ریاستی مشینری کا اپوزیشن کے خلاف بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، حکومتی دہشت گردی عروج پر ہے، ہمارے ممبران پر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور دھمکایا جا رہا ہے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ 22 جولائی کو وزیراعلیٰ کا انتخاب سپریم کورٹ کے حکم پر کرایا جا رہا ہے، اس عمل میں مداخلت کرنا اور روکنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے.بعد ازاں قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

قبل ازیں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی سے سابق وزیر گلگت بلتستان بشیر احمد خان نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی اور ضمنی الیکشن میں بھرپور کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور انہیں گلدستہ بھی پیش کیا۔