fbpx

پی ٹی آئی دھرنے کی اجازت؛ فریقین خود طے کرلیں، ورنہ پھر عدالت دیکھے گی. اسلام آباد ہائیکورٹ

ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی جانب سے دھرنے اور جلسے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف درخواست میں ریمارکس دیے ہیں کہ فریقین معاملات طے کرلیں، ورنہ عدالت دیکھے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی جانب سے جلسے اور دھرنے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف درخواست کی سماعت جسٹس عامر فاروق نے کی۔ اس سلسلے میں اسلام آباد انتظامیہ نے بھی متفرق درخواست دائر کررکھی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ دوران سماعت عدالت نے اسٹیٹ کونسل کے نمائندے سے استفسار کیا کہ آپ نے کوئی درخواست دی ہے؟، جس پر نمائندہ اسٹیٹ کونسل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے جلسے کی درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے، لہٰذا جلسے اور دھرنے کی اجازت کی درخواست خارج کردی جائے۔

عدالت نے کہا کہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے، ان کو کچھ وقت دے دیتے ہیں۔ دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ فریقین بیٹھ کر طے کر لیں، وگرنہ عدالت دیکھے گی۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف نے دارالحکومت میں جلسے کی اجازت نہ ملنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا. درخواست پی ٹی آئی اسلام آباد کے صدر علی نواز اعوان کی طرف سے دائر کی تھی جس میں وزارت داخلہ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو فریق بنایا گیا تھا جبکہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ ملکی معیشت خراب حالات اور بدانتظامی کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی سری نگر ہائے وے پر جلسہ کر سکتی ہے۔