fbpx

پی ٹی آئی حکومت کی 4 سالہ معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نو منتخب حکومت نے سابقہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی 4 سالہ معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری کردی –

باغی ٹی وی : مسلم لیگ ن کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں 2013 سے 2018 تک کی ن لیگ کی حکومت اور 2018 میں آنے والی تحریک انصاف کی حکومت کا موازنہ کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کا اوورسیزپاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے قانون پرنظرِثانی کا فیصلہ

رپورٹ کے مطابق قومی ترقی کی شرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں 6.1 فیصد تھی جبکہ یہ پی ٹی آئی حکومت میں 4 فیصد پر آگئی تھی جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں مہنگائی 3.9 فیصد تھی جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں یہ 10.8 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی ایس پی آئی میں مہنگائی مسلم لیگ (ن) کے دور میں 0-9 فیصد تھی جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں یہ 17.3 فیصد کی ہو شربا سطح پر تھی خوراک کی مہنگائی ن لیگ کے دور میں 2.3 فیصد جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں 10.2 فیصد تھی-


مالیاتی خسارے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں مالیاتی خسارہ 2 ہزار 260 ارب روپے تھا جبکہ پی ٹی آئی کے آخری سال یعنی 2021-2022 میں یہ 5 ہزار 600 ارب ہوچکا ہے قومی آمدن کے تناسب سے شرح ترقی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں 11.1 فیصد تھی جو پی ٹی آئی کا دور ختم ہونے پر آج 9.1 فیصد ہے۔

پی ٹی آئی کا ملک میں بلا تاخیرعام انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ

رپورٹ میں بتایا گیا کہ تحریک انصاف کے دور میں ملکی قرض اور ادائیگیوں کے بوجھ میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مالی سال 2017-18 میں جب اقتدار چھوڑا تھا توسرکاری شعبے کا قرض 24 ہزار 953 ارب روپے تھا۔ پی ٹی آئی نے مالی سال 2021-22 میں جب اقتدار چھوڑا ہے تو یہ قرض 42 ہزار 745 ارب روپے کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔

پاکستان کا مجموعی قرض اور ادائیگیاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے آخری سال 29 ہزار 879 ارب تھیں۔ عمران خان نے یہ مجموعی قرض اور ادائیگیاں 51 ہزار 724 ارب کی بلند ترین تاریخی سطح پر پہنچا دی ہیں۔

رپورٹ میں تحریک انصاف دور میں غیر ملکی قرض میں تاریخی اضافے کی نشاندہی کی گئی اور کہا گیا کہ سرکاری شعبے کا غیرملکی قرض پاکستان مسلم لیگ (ن) کے گزشتہ دور میں 75.4 ارب ڈالر تھا جو پی ٹی آئی کے دور میں 102.3 ارب ڈالر پر جاپہنچا ہے۔

عمران خان کل لاہور کے جلسہ میں اہم اعلان کریں گے،شیخ رشید

کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے پونے چار سال میں جی ڈی پی کی شرح سے قرض اور ادائیگیوں کے مجموعی بوجھ میں 100 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ یہ صورتحال ہماری خودمختاری اور قومی سلامتی کے لئے براہ راست خطرہ ہے۔

بے روزگاری کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اقتدار چھوڑا تھا تو پاکستان میں بے روزگاروں کی تعداد 35 لاکھ تھی۔ پی ٹی آئی نے اقتدار چھوڑا ہے تو ملک میں بے روزگاروں کی تعداد 95 لاکھ ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں خط غربت یا انتہائی مفلسی میں زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد 5 کروڑ50 لاکھ تھی۔ پی ٹی آئی نے اقتدار چھوڑا ہے تو آج یہ تعداد 7 کروڑ 50 لاکھ ہوچکی ہے۔

کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کے حوالے سے بتایا گیا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں یہ 19.2 ارب ڈالر تھا جبکہ پی ٹی آئی نے اقتدار چھوڑا ہے تو پاکستان کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 20 ارب ڈالرہے۔ یعنی اس میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے دور میں تجارتی خسارہ 30.9 ارب ڈالر تھا جبکہ پی ٹی آئی نے اقتدار چھوڑا ہے تو تجارتی خسارہ 43 ارب ڈالر ہے، مسلم لیگ (ن) نے 2017-2018 میں جب حکومت چھوڑی تھی توپاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر تھے۔ پی ٹی آئی نے حکومت چھوڑی ہے تو غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر10.8 ارب ڈالر ہیں۔

کابینہ میں اضافہ،طارق فاطمی معاون خصوصی برائے امور خارجہ مقرر