fbpx

تحریک انصاف کی حکومت مگر "انصاف” کا دروازہ بند ہے، علامہ طاہر القادری

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو سات سال ہو گئے ہیں

علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ میڈیا کے تمام احباب کا شکر گزار ہوں جو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی آواز بننے کیلئے پہنچے.سات سال سے انصاف مانگ رہے ہیں، تحریک انصاف کی حکومت ہے لیکن اب تحریک انصاف نے بھی انصاف کا دروزاہ بند کر دیا ہے، 14 لوگوں کو شہید کر کے غلط مقدمے درج کئے گئے،سالہا سال سے ہم عدالتوں میں جا رہے ہیں، انصاف کے طلبگار ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی صحیح تفتیش نہیں کی گئی، مورخہ 15جون 2014 سے پہلے آئئی جی پنجاب خان بیگ تھے جنہوں نے ادارہ منہاج القرآن اور ڈاکٹرمحمد طاہرالقادری کی رہائش گاہ پر آپریشن کرنے سے انکار کردیا تھا۔ بعد میں کیا کچھ ہوا سب نے دیکھا، ہم دھرنے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ غیر جانبدار لوگ اس واقعہ کی تحقیقات کریں، سوا دو سو افراد نے بیان قلمبند کروائے، جے آئی ٹی میں پیش ہوئے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کے لیے لارجر بینچ جس کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان نے خود کی اس میں میں نے خود دلائل پیش کیے۔

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت ہونے کے باوجود بھی ماڈل ٹاؤن کے متاثرين انصاف سے محروم ہیں۔ جب سانحہ کی تمام لوگوں کی تفتیش مکمل ہوئی اور جب رپورٹ سبمٹ ہونے والی تھی تو ایک سنگل کونسٹبل نے درخواست دی اور اس سے جے آئی ٹی کو سسپنڈ کر دیا گیا۔ آرمی چیف راحیل شریف نے کہا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالہ سے انصاف مل کر رہے گا، پاکستان کی سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس ثاقب نثار نے بھی کہا تھا کہ انصاف ہو گا ،میاں ثاقب نثار نے بسمہ بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر وعدہ کیا کہ آپ کو انصاف ملے گا لیکن ابھی تک انصاف کے منتظر ہیں، اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالہ سے ہونے والے احتجاجوں میں کہا تھا کہ انصاف کے لئے ہم آپکے ساتھ ہیں، لیکن جب عمران خان وزیراعظم بنے تو پھر وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف دلوانا بھول گئے