پی ٹی آئی کو 2013 کے بعد بھی فارن فنڈنگ

0
38

پاکستان تحریک انصاف کو 2013 کے بعد بھی فارن فنڈنگ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے جنگ کے مطابق الیکشن کمیشن کے اگست میں فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 2008 سے 2013 تک ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی لیکن حاصل دستاویزات کے مطابق یہ فنڈنگ 2013 کے بعد بھی جاری رہی۔

سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ، ہیکنگ اور فراڈ کی شکایات میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی نے اکتوبر 2014 سے مارچ 2015 تک امریکا میں غیر ملکی رجسٹرڈ اداروں سمیت مختلف اداروں سے 4 لاکھ ڈالرز سے زائد رقم اکٹھی کی-

رپورٹ کے مطابق سابق وفاقی وزیر علی زیدی اور سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اس عرصے میں امریکا کا دورہ کیا اور اکتوبر 2014 سے مارچ 2015 تک فنڈز جمع کرنے کی مہم چلائی جس میں چار لاکھ ڈالرز سے زائد رقم اکٹھی کی-

رپورٹ کے مطابق رقم میں سے 3 لاکھ 5 ہزار ڈالرز پاکستان میں موجود پارٹی اکاؤنٹس میں پانچ اقساط میں منتقل کیے گئے، پی ٹی آئی کے بیرون ملک چیپٹر کے سیکرٹری عبداللہ ریار کے پاس ان فنڈز کے حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا دعویٰ رہا ہے کہ اُنہوں نے بیرون ممالک سے جتنے بھی فنڈز اکھٹے کیے ہیں وہ قانون کے مطابق ہیں۔

واضح رہے کہ 2 اگست 2022 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر ممنوعہ فنڈز لینا ثابت ہو گیا ہے۔

گوجرہ : نام نہاد معزز سود خور صحافی بن گئے،صحافت کی آڑ میں غیرقانونی کام عروج…

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ’متفقہ‘ فیصلہ سنایا تھا فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن میں غلط ڈیکلیریشن جمع کرایا۔

پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ ​​کا مقدمہ پارٹی کے بانی ارکان میں سے ایک اکبر شیر بابر (المعروف اکبر ایس بابر) نے نومبر 2014 میں الیکشن کمیشن میں دائر کیا تھا۔

انہوں نے پارٹی پر غیر اعلانیہ اکاؤنٹس کے ذریعے غیر ملکی کمپنیوں اور غیر ملکی شہریوں سے رقوم حاصل کرنے کا الزام لگایا تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن کی تحقیقات کے دوران کئی باتیں سامنے آئیں۔

اے این ایف کی ملک بھر میں کاروائیاں،کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط

تحریک انصاف کی قیادت شروع سے ہی اس مقدمے کے ‘غیر قانونی’ ہونے کے باعث مخالفت كرتے رہے ہیں، جبکہ کئی موقعوں پر انہوں نے دوسری سیاسی جماعتوں خصوصاً ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف پاکستان مسلم لیگ ن کے فنڈز کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

2014 کے بعد سے رواں برس 2 اگست تک کیس کی تقریباً 200 سماعتیں ہوئیں، جبکہ مقدمہ دائر ہونے کے وقت سے تحریک انصاف نے 30 مرتبہ سماعتوں میں التوا مانگا اوچھ مرتبہ مقدمےکےناقابل سماعت ہونے یا الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سےباہر ہونےکی درخوا ستیں دائر کیں جبکہ نو بار وکیل تبدیل کیے۔

الیکشن کمیشن نے 21 بار تحریک انصاف کو دستاویزات اور مالی ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے اس کیس کی وجہ سے الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر پی ٹی آئی مخالف جماعتوں کی طرف داری کا الزام لگایا اور ملک میں انتخابات کروانے کے ذمہ دار ادارے کے خلاف گاہے بگاہے احتجاج بھی کیا۔

Leave a reply