fbpx

ںادرہ چوک پر جلسہ کی اجازت نہ ملنے پرتحریک انصاف نے مقام اور وقت تبدیل کردیا

وفاقی حکومت کی جانب سے ریڈ زون سیل ہونے کے بعد تحریک انصاف نے احتجاج کا وقت اور جگہ تبدیل کردی ہے.

تحریک انصاف نے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے پر الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کا اعلان کررکھا تھا، تاہم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ریڈ زون کے اندر اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کردیے گئے ہیں، اور پولیس، ایف سی اور رینجرز کے 2 ہزار جوانوں کو تعینات کردیا گیا ہے.

ریڈ زون کی بندش کے باعث تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا مقام اور وقت تبدیل کردیا ہے۔ اور پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے اب کارکنوں کو نادرا چوک کے بجائے شام 6 بجے ایف نائن پارک پہنچنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

تحریک انصاف کے اراکین پارلیمان 3 بجے پارلیمنٹ کے باہر جمع ہوں گے، اراکین پارلیمان کی قیادت مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر کریں گے، الیکشن کمیشن کیخلاف احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ جب کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان شام 7 بجے کارکنان و عوام سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کریں گے۔

یکم اگست کو پی ٹی آئی کے نیشنل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےچیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے الیکشن کمیشن کے عہدیداروں سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے ساتھ جمعرات کو الیکشن کمیشن کے باہر پرامن احتجاج کی کال دی تھی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمشنر نے ای وی ایم کے نظام کو سبوتاژ کرنے کی پوری کوشش کی کیونکہ دو پارٹیوں نے اس سے اختلاف کیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین آجائے تو دھاندلی کے 130 طریقے ختم ہوجائیں گے، بھارت اور ایران میں بھی ووٹنگ مشین کا استعمال ہوتا ہے مگر چیف الیکشن کمشنر نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین نہیں آنے دی۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف نے نادرہ چوک پر جلسہ کرنے کی درخواست کی تھی جسے دفعہ 144 کے باعث خارج کردیا گیا تھا.

اسلام آباد انتظامیہ نے نادرہ چوک میں جلسہ کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے کہا تھا نادرہ چوک ریڈ زون میں واقع ہونے کی وجہ سے وہاں جلسے کے اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ پی ٹی آئی ایف نائن پارک یا ایچ نائن گراؤنڈ کا انتخاب کر کے پر امن احتجاجی جلسہ کرسکتی ہے۔ اور جگہ کا انتخاب کر کے انتظامیہ کو مطلع کیا جائے تاکہ سیکیورٹی کے انتظامات کئے جا سکیں.

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا: ریڈ زون میں جلسے جلوس اور کسی قسم کے احتجاج پر دفعہ 144 کےتحت پابندی ہے۔ لہذا تحریک انصاف کو جلسہ کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں.

دوسری جانب متوقع لا اینڈ آرڈر کے پیش نظر ریڈ زون میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی تھی لہذا ریڈ زون میں کسی بھی قسم کے احتجاج یا اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی۔

اعلامیہ کے مطابق: سرکاری ملازمین، میڈیا اور عدالتوں میں پیش ہونے والے سائلین مارگلہ روڈ استعمال کریں جبکہ ڈپلومیٹک انکلیو میں داخلہ کےلیے تھرڈ روڈ استعمال کیا جائے.

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ: قانونِ کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

تحریک انصاف کے رہنماء اسد عمر نےکہا تھا کہ: الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے صرف عوام کے منتخب نمائندے جائیں گے لیکن عوام کے خوف سے پورا علاقہ کنٹینر سے بھر دیا گیا.

‏انہوں نے مزید کہا: گزشتہ روز اسلام آباد انتظامیہ کو احتجاج کی اطلاع دے دی تھی.

انکے خیال میں: جب لیڈر ‏عوام میں جڑیں نہ ہوں اور وہ بیرونی مداخلت کی پیداوار ہوں تو امپورٹد حکومت کیطرح خوفزدگی نظر آتی ہے.

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے امپورٹڈ حکومت کے ساتھ مل کر تحریک انصاف کے خلاف سازش کی۔

جبکہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ٹوئیٹر پیغام میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی پوری ریاستی مشینری اور الیکشن کمیشن کی حمایت کے باوجود پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے امپورٹڈ حکومت کے ساتھ ملی بھگت سے تحریک انصاف کے خلاف ٹیکنیکل ناک آؤٹ کی سازش رچانے کی کوشش کی ہے۔


سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں عمران خان نے مزید کہا کہ اب یہ لوگ عام انتخابات میں پوری پی ڈی ایم کے ساتھ پنجاب کے ضمنی الیکشن جیسے نتیجے سے خوف زدہ ہیں۔

سابق وزیر اعظم نے اپنے بیان میں لوگوں سے شام 6 بجے ایف نائن پارک میں الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف پرامن عوامی احتجاج کے لیے نکلنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میں سات سے ساڑھے سات بجے کے درمیان اجتماع سے خطاب کروں گا۔