fbpx

پی ٹی آئی رہنما لیلیٰ پروین پر وکلا کا مبینہ تشدد سابقہ شوہر سمیت دیگرکے خلاف مقدمہ درج

کراچی : پی ٹی آئی رہنما لیلیٰ پروین پر وکلا کا مبینہ تشددسابقہ شوہر سمیت دیگرکے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق ملیر کورٹ میں پی ٹی آئی رہنما لیلیٰ پروین پر وکلا کے مبینہ تشدد کے واقعے کے خلاف ملیر سٹی تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں سابقہ شوہرعلی حسنین ایڈووکیٹ اور دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ لیلیٰ پروین کے سابق شوہر کے خلاف ان کے بھائی نے بوگس چیک کا مقدمہ دائر کر رکھا تھا۔
‏ ملیر کورٹ میں وکلا نے وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرانے پر پی ٹی آئی خاتون رہنما لیلی پروین کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ اور دھمکی دی کہ کسی وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے پہلے اتنا ضرور سوچ لو کہ آنا عدالت ہی ہے ۔ ملیر کورٹ کے وکلاء نے کھلی طور پر بدمعاشیاں کیں کہ پی ٹی آئی خاتون کو کھلے عام تشدد کا نشانہ بنایا ۔
ملیر سٹی تھانے میں دائر مقدمے میں لیلیٰ پروین نے مؤقف اختیار کیا کہ پانچ سال قبل ان کی ایک شخص کے ساتھ شادی ہوئی تھی اور ان کا ایک ڈیڑھ سالہ بیٹا بھی ہے۔ تاہم رواں سال جون میں اُن کی طلاق ہو گئی تھی۔
لیلیٰ کے شوہر ایک وکیل ہیں اور کراچی بار کونسل کے رکن بھی ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق لیلیٰ کے سابق شوہر نے اُن (لیلیٰ) کے بھائی سے 65 لاکھ روپے قرضہ لیا تھا اور اس قرضے کی مد میں ایک چیک دیا تھا۔
چیک باؤنس ہونے کے بعد اُن کے بھائی نے لیلیٰ کے سابق شوہر کے خلاف مقامی تھانے میں مقدمہ درج کروایا اور 21 نومبر کو پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
لیلیٰ پروین بتاتی ہیں کہ 22 نومبر کو تفتیشی افسر ملزم کو ملیر کورٹ میں لے کر آئے اور وہ اپنے بھائی کے ساتھ ملیر کورٹ میں مقدمے کی پیروی کے سلسلے میں آئی تھیں۔
لیلیٰ کا دعویٰ ہے کہ جب وہ عدالت پہنچیں تو صبح پونے گیارہ بجے کورٹ میں موجود ملزم (ان کے سابقہ شوہر) کے کہنے پر ان کے چند ساتھی وکلا نے انھیں پستول دکھاتے ہوئے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور مقدمے کی پیروی نہ کرنے کو کہا جس پر انھوں نے انکار کیا۔
پی ٹی آئی رہنما نے پی ٹی آئی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ۔