پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس،وزیراعظم کی بریت کے بعد وفاقی وزراء نے بھی اہم قدم اٹھا لیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت ہوئی

پیٹ کارکنان کی ہلاکت سے متعلقہ ایف آئی آر پر سماعت کی گئی،ملزم میں سے کوئی عدالت میں پیش نہیں ہوا،جہانگیر خان ترین، شاہ محمود قریشی، راجہ خرم شہزاد ، اسد عمر کی جانب سے بریت کی درخواست دائرکر دی گئی شفقت محمود ،اعجاز احمد چوہدری سیف اللہ سرور، شوکت علی کی جانب سے بھی بریت کی درخواست بھی دائر کر دی گئی،

ملزمان پر فردجرم عائد نہ ہو سکی ،پرویز خٹک ،علیم خان، راجہ خرم نواز کی بریت کی درخواستیں پہلے سے دائر ہیں،علیم خان کی جانب سے 2 وکلا پیش ہوئے،عدالت نے کہا کہ جی دونوں درخواستوں پر دستخط ہیں 1 پر بلو اور 1 درخواست پر بلیک پین سے دستخط ہیں، آپ آپس میں فائنل کر لیں کون سا وکیل علیم خان کی طرف سے پیش ہو گا ،یا تو علیم خان عدالت میں پیش ہو کے بتائیں ان کی طرف سے کون سا وکیل ہے

عدالت نے کیس کی سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کر دی

واضح رہے کہ اس کیس میں وزیراعظم عمران خان کو گزشتہ سماعت پر بری کر دیا گیا تھا،انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج راجا جواد عباس حسن نے فیصلہ سنایا تھا،عدالت نے عمران خان کے علاوہ دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،

صدارتی استثنا کے باعث صدرمملکت عارف علوی کی حد تک کیس داخل دفترہے ،اس سے قبل عدالت عمران خان کو ایس ایس پی تشدد کیس میں بری کرچکی ہے ،ں۔ صدر مملکت عارف علوی، وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد عمر، شفقت محمود، صوبائی وزیر علیم خان، جہانگیر ترین بھی مقدمہ میں ملزم نامزد ہیں

واضح رہے کہ اگست 2014 میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا تھا جس کے دوران دونوں جماعتوں کے کارکنان نے پولیس رکاوٹیں توڑ کر وزیراعظم ہاؤس میں گھسنے کی کوشش کی تھی اور مبینہ طور پر پی ٹی وی پر حملہ کیا۔ اس دوران شاہراہِ دستور پر تعینات پولیس اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپ ہوئی اور پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے 50 مظاہرین نے مبینہ طور پر سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) عصمت اللہ جونیجو کو حملہ کر کے زخمی کیا تھا۔

پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت کرنیوالے جج کو او ایس ڈٰی بنا دیا گیا

پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس،پارلیمنٹ کا جنگلہ کیوں توڑا گیا تھا؟ وکیل نے بتا دیا

اسلام آباد پولیس نے ان تمام واقعات کے مقدمات عمران خان، طاہر القادری، عارف علوی، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور راجہ خرم نواز گنڈاپور کے خلاف درج کئے جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں

پارلیمنٹ حملہ کیس، وزیراعظم کی بریت پر عدالت کا بڑا فیصلہ آ‌گیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.