پولیس کے خلاف عوامی مزاحمت اور اسباب

پولیس کے خلاف عوامی مزاحمت اور اسباب
ازقلم غنی محمود قصوری
پولیس فورس امن و امان قائم اور قانون پر عملدرآمد کروانے کا پابند ادارہ ہے جو ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہے،پولیس کا کردار معاشرے میں وہی ہوتا ہے جو کہ سکول کے اندر ایک استاد کا ہوتا ہے،استاد اپنے طالب علموں سے پیار کرتا ہے ان کی اصلاح کرتا ہے اور غلطی کرنے پر ضابطے کے مطابق سزا دے کر راہ راست پر لاتا ہے تاکہ کسی ایک کی غلطی سے پورے کلاس روم کا ماحول نہ خراب ہو جائے
یہی کام پولیس کا ہے کہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے شہریوں کی حفاظت کرے اور ان کو تنگ کرنے والے دیگر جرائم پیشہ عناصر کو پکڑ کر قانون کے مطابق سزا دلوائے یعنی کہ پولیس” تحفظ "کا نام ہے مگر افسوس ہمارے ہاں ایسا بالکل نہیں بلکہ الٹ ہو چکا ہے،پولیس کا نام سنتے ہی شریف النفس شہری کے بدن میں کپکپی شروع ہو جاتی ہے

اس کی وجہ یہ نہیں کہ ساری کی ساری پولیس فورس ہی خراب اور ناکارہ ہے بلکہ چند بے ضمیروں ،راشیوں اور جرائم پیشہ ذہنیت کے حامل پولیس والوں نے پوری پولیس فورس کو بدنام کرکے رکھ دیا ہے جس کے باعث آج پولیس اور عوام میں دوری ہو گئی ہے اور اسی بابت کچھ عرصے سے ہمیں پولیس کے زیر عتاب ہونے کی خبریں دیکھنے کو مل رہی ہیں جس میں پولیس کو مکمل طور پر بے بس دیکھا گیا ہے پاکستان کے صوبوں کے علاوہ آزاد کشمیر میں بھی یہی صورتحال ہے

یعنی کہ جو محکمہ تحفظ کیلئے بنایا گیا اب اسے خوداپنے تحفظ کی ضرروت محسوس ہونے لگی ہے مگر یہ سب یک طرفہ نہیں اس میں بہت زیادہ قصور محکمہ پولیس کا اپنا بھی ہے جو ایک آزاد ادارہ ہوتے ہوئے چوہدری ،وڈیروں،جاگیرداروں کا غلام بن چکا ہے

دستور دنیا ہے کہ غصہ ہمیشہ کمزور پر ہی آتا ہے سو اسی لئے پولیس بھی خوب سوچ سمجھ کر غصہ کرتی ہے جہاں کوئی تگڑا طاقتور دیکھا اپنا غصہ کنٹرول کر لیا اور قانون کے مطابق کارروائی کی بلکہ رعایت کر دی اور جہاں کوئی غریب اور کمزور دیکھا باوجود قانونی رعایت کے اپنا غصہ اس پر نکالنا آج ہمارے بیشتر پولیس ملازمین کا مشغلہ بن چکا ہے

امیر و تگڑا کوئی جرم کر لے تو اس پر دفعات لگائی ہی نہیں جاتیں اور اگر کوئی کمزور اور غریب جرم کر بیٹھے تو پھر اس جرم کیساتھ دو چار اضافی دفعات لگا کر اسے ذلیل و خوار کیا جاتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ پولیس کا محکمہ بدنام ہو گیا ہے اور لوگ اس سے اب نفرت کرنے لگے ہیں

جب کوئی پولیس کے ظلم سے تنگ ہو کر عدالتوں میں یا دیگر محکموں میں جاتا ہے تو ان محکموں کی طرف سے بھی سستی کا عمل دیکھنے میں آتا ہے جس کے باعث لوگوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کیا بلکہ اب تو لوگوں نے جتھوں کی شکل میں پولیس پروار کرنا شروع کر دیئے ہیں جو کہ بہت بڑا لمحہ فکر ہیں

پولیس کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہوتے ہوئے بھی پولیس کنٹرول سے باہر ہے بلکہ پولیس کو کنٹرول کرنے والے محکمے داد رسی کی فریاد کرنے والے کے الٹ ہی چلتے ہیں جس کے باعث اب کوئی پولیس کے خلاف درخواست دیتے ہوئےسو بار سوچتا ہے

اگر یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو عوام اور پولیس میں بہت دوری ہو جائے گی جس کے نتائج بہت برے ہو سکتے ہیں،یہاں سب سے بڑی غلطی پولیس فورس کی ہے جو خود قانون کی رکھوالی ہو کر ماورائے قانون کام کرتی ہے،سوچنے کی بات اگر قانون پرعمل درآمد کروانے والا ادارہ قانون کی پاسداری خود نہیں کرتا تو کسی اور سے کیا کروائے گا؟

آج ہماری پولیس کا پسندیدہ مشغلہ لوگوں کے گھروں میں بغیر سرچ وارنٹ کے جانا اورگھر کے ایک فرد کے قصور وار ہونے پر پورے گھرانے کے افراد کو اٹھا لینا اور زدو کوب کرنا ہے ،لوگوں کو اٹھا کر ٹارچر کرنا اور عدالتوں میں پیش نا کرنا بہت عام ہو چکا ہے

اب عوام نے کچھ ظلم کیا اپنے طور پر پولیس پر تو سب سے پہلے آغاز بھی تو پولیس کی طرف سے ہی ہوتا ہے ،اس وقت پولیس کی طرف سے لوگوں کو ناجائز حراست میں رکھنا سب سے بڑا ظلم ہے اور پھر اس کے بعد لوگوں کے گھروں میں بغیر سرچ وارنٹ کے داخل ہونا اور گھر والوں کو مارنا پیٹا جس کی دو چار نہیں کئی ہزار ویڈیوز بطور پروف اب تک سامنے آ چکی ہیں

دوسری بڑی وجہ پولیس ملازمین سے زیادہ ڈیوٹی لینا بھی ہے جس سے پولیس ملازمین چڑچراہٹ کا شکار ہوتے ہیں اور اپنے افسران کی عیاشیوں کو پورا کرنے کے لئے لوگوں سے رشوت لے کر افسران تک پہنچاتے ہیں

جہاں پولیس غلط ہے وہاں پولیس کے اندر بیٹھے لوگ بھی پولیس کو غلط کرنے پر مجبور کرتے ہیں،زائد ڈیوٹی کروانا،چھٹی نا ملنا،بہت پرانے ہتھیاروں سے ڈیوٹی کروانا اور اپنے ماتحتوں کو گالیوں سے نوازنا،یہ ساری چیزیں ایک پولیس والے کو نارمل نہیں رہنے دیتیں جس کے باعث وہ اپنی ہتک کا بدلہ عام لوگوں سے لیتا ہے

اگر ان معاملات پر قابو نہیں پایا جاتا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے

ان مسائل پر قابو پانے کی خاطر پولیس مددگار ریسکیو 15 کی طرح ایک ہیلپ لائن بنائی جائے جس پر شہری بغیر سرچ وارنٹ ریڈ کرنے آنے والی پولیس پارٹی کی اطلاع اس ہیلپ لائن پر دیں اور فوری موقع پر ہی کارروائی کی جائے اور بغیر عدالتی سرچ وارنٹ کے آنے والے پولیس آفیسرز کو فارغ کیا جائے،کسی کو بغیر ایف آئی آر ناجائز حراست میں رکھنے کا عمل ثابت ہونے پر نا صرف نوکری سے فارغ کیا جائے بلکہ عام شہری کی طرح اغواء کا پرچہ درج کرکے سزا دی جائے تاکہ پولیس قانون کے مطابق چلے نیز پولیس کے اندرونی معاملات بھی درست کروائے جائیں تاکہ پولیس جوانوں کو اپنے محکمے سے تحفظ کا احساس ملے

اگر پولیس قانون کے مطابق چلے گی تو عام لوگوں کو مجبوراً قانون کے مطابق چلنا پڑے گا اور جب معاشرے میں قانون کے مطابق چلنے کا رواج ہو گا تو امن و امان قائم ہو گا جرائم میں کمی واقع ہو گی اور ملک خوشحال ہو گا

واضع رہے کہ جج،جرنیل،صدر وزیراعظم یا کوئی بھی بڑے سے بڑے شحض کی طرف سے قانون شکنی کی جاتی ہے تو ایف آئی ار پولیس ہی درج کرتی ہےیعنی کہ جتنا مرضی تگڑا بندا ہو بات آ جا کر پولیس پر ہی ختم ہوتی ہے یعنی پولیس سب سے بڑی ہے مگر سوچنے کی بات ہے کہ اگر پولیس تگڑے کے لئے ایف آئی آر قانون کے مطابق یا اپنی مرضی کی درج کرے اور غریب کے لئے درج ہی نا کرے تو اگر کرے بھی تو مستحق دفعات نا لگائے تو پھر پولیس کیساتھ ایسا رویہ عوام کی جانب سے دیکھنے کو ملے گا

ایف آئی آر اگر درست درج ہو گی تو عدالتیں بھی اچھے طریقے سے مقدمے کا ٹرائل کر سکیں گیں وگرنہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ایف آئی آر اول تو درج ہوتی ہی نہیں اور اگر رشوت و سفارش سے درج کروا بھی لی جائے تو درست دفعات نہیں لگائی جاتیں جس کے باعث مقدمے کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے اور انصاف نہیں ملتا، جرائم پیشہ فائدہ پاتے ہیں اور مظلوم ساری زندگی رلتے رہتے ہیں اور لوگ پولیس کے قریب ہونے کی بجائے دور بھاگتے ہیں

معاشرے کو سدھارنے کے لئے سب سے پہلے پولیس کا سدھرنا لازم ہے سو گورنمنٹ کو اس پرانے فرسودہ سسٹم کی بجائے نئے سسٹم پر غور کرنا ہو گا تاکہ عوام کو سدھارنے کیساتھ پولیس کو بھی سدھارا جا سکے.اگر پولیس سسٹم میں بدلاؤ نہ لایا گیا تو عوامی غیظ و غضب سب کچھ بہاکرلے جائے گا.

Leave a reply