fbpx

پلواما کا حملہ اقتدارکے بھوکے نریندرمودی نے کروایا،کانگریس رہنما

نئی دلی: کانگریس کے رہنما ادت راج کا کہنا ہے کہ پلواما کا حملہ اقتدارکے بھوکے نریندرمودی نے کروایا۔

باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس کے رہنما ادت راج کا کہنا تھا کہ پلواما میں بھارتی سیکورٹی اہلکاروں پرحملہ وزیراعظم نریندرمودی ہی کرواسکتے تھے کیونکہ وہ ہرحال میں 2019 کا الیکشن جیتنا چاہتے تھے۔

مودی کو جان کے لالے پڑگئے، 20 منٹ بارش میں گزارنے پڑے

ادت راج کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نریندرمودی اقتدارکے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں پلواما حملے میں زخمی سیکورٹی اہلکاروں کوائیرایمبولینس کے ذریعے منتقل کرنے کی درخواست کا وزیراعظم مودی نے کوئی جواب نہیں دیا مودی اجازت دیتے تو40 بھارتی سیکورٹی اہلکاروں کی جان بچ سکتی تھی۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ پنجاب میں وزیراعظم مودی کے قافلے پرنہ کسی نے کوئی پتھرپھینکا نہ ہی کوئی حملہ ہوا لیکن یہ پھربھی واویلا مچا رہے اورشورکررہے ہیں یہ ڈرامے کرتے ہیں۔

لداخ میں چینی فوج کی تعداد میں مسلسل اضافہ

خیال رہے کہ حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم مودی پنجاب میں انتخابات کے سلسلے میں تین روزہ دورہ پر بھٹنڈہ پہنچے تو ہوائی اڈے سے وزیراعظم ہیلی کاپٹر کے ذریعے فیروز پورجانے والے تھے لیکن موسم خراب ہونے کی وجہ سے انہوں بذریعہ کار فیروزپور جانے کا فیصلہ کیا ان کا قافلہ جب بھٹنڈہ بائی پاس کے قریب فلائی اوور پر پہنچا تواسی روٹ پر سامنے سے کسانوں کاایک جلوس آنے کی اطلاعات پر مودی کے قافلہ کو فوری طور پر روک لیا گیا۔

عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے،ملا عبدالغنی برادر

مودی کے قافلے کے لئے تین روٹ بنائے گئے تھے۔ وزارت داخلہ کے مطابق مودی جس روٹ سے فیروزپور جارہے تھے اس کی اطلاع پنجاب کے وزیراعلی چرن جیت سنگھ چنی اور کانگریس کے مقامی رکن پنجاب اسمبلی کو تھی۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ روٹ کی اطلاع وزیراعلی کے ایما پررکن اسمبلی کوملی جس نے کسانوں کواسی روٹ پرجلوس نکالنے کےلئے اکسایا-

مظاہرین نے وزیراعظم کے قافلے میں شامل بی جے پی کے ورکرزکی ایک بس کا گھیراو بھی کرلیا جو وزیراعظم کی گاڑی سے چند میٹر کے فاصلے پرتھی۔بھارتی وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم کے روٹ کو لیک ہونے کے واقعہ کو بھارتی تاریخ کا منفرد واقعہ قرار دیااور کہا کہ ایسے واقعہ کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ دریں اثنا وزیراعلی پنجاب چرن جیت سنگھ چنی نے کہا کہ وزیراعظم نے اصل روٹ سے ہٹ کر حسینی والا سے جانے کا فیصلہ کیا جو کہ پاکستان کے شہر قصور سے متصل ہے وزیراعظم کو اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کا پنجاب کا دورہ ایک فلاپ شو ہوگا اس لئے انہوں نے سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر واپس جانے میں عافیت سمجھی۔

واضح رہے کہ 14 فروری 2019ء کو 78 گاڑیوں پر سوار 2،500 سینٹرل ریزرو پولیس فورس اہلکاروں کا قافلہ جموں سے سری نگر جانے کے لیے قومی شاہراہ 44 پر گزر رہا تھا۔ قافلہ بھارتی وقت کے مطابق لگ بھگ 3:30 پر جموں سے روانہ ہو چکا تھا اور اس میں کئی اہلکار شامل تھے۔

اونتی پورہ کے نزدیک لیتھ پورہ میں بھارتی وقت کے مطابق تقریباً 15:15 جس بس میں سیکورٹی اہلکار موجود تھے اس سے ایک مہیندر اسکورپیو ایس یو وی ٹکرائی، اس کار میں دھماکا خیز مواد تھا۔ اس کی جہ سے دھماکا ہو گیا اور کم از کم 40 اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے تھےزخمیوں کو سری نگر میں آرمی بیس ہسپتال منتقل کیا گیا۔

بیٹی کو کیوں مارا،بھارتی فوجی نے ٹیچرکو گولی مار دی

نیشنل انویسٹی گیشن ایجینسی نے جموں کشمیر پولیس کے ساتھ 12 رکنی ایک ٹیم حملہ کی جانچ کے لیے بنائی تھی ابتدائی مرحلہ کی جانچ میں پتہ چلا تھا کہ ایک کار 300 کلو دھماکا خیز مواد لے جارہی تھی جس میں 80 کلو آر ڈی ایکس (دھماکا خیز مواد) موجود تھا-

نریندر مودی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ پلوامہ میں سی آر پی ایف پر حملہ ناجائز ہے، میں اس بد قسمت حملہ کی پرزور مخالفت کرتا ہوں ہمارے محافظین کی یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی پورا ملک ہلاک ہونے والوں کے ساتھ کندھا سے کندھا ملائے کھڑا ہے-

کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون اوراب فلورونا:بھارت کے بندہونے کا خطرہ:دہلی میں لاک ڈاون…