fbpx

پنجاب اسمبلی کا اجلاس ،گورنر کو بھجوائے گئے بل ایوان سے دوبارہ منظور

پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 50 منٹ کی تاخیر سے سپیکر محمد سبطین خان کی زیرِ صدارت شروع ہوا۔ وقفہ سوالات میں محکمہ جنگلات، جنگلی حیات و ماہی پروری سے متعلق سوالات پوچھے گئے جن کے جوابا ت صو بائی وزیر علی عباس رضانے دیے۔

گزشتہ اجلاس میں پنجاب کمیشن آن سٹیٹس آف وومن بل 2022 لاہور، سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2022 او ر راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2022 گورنر پنجاب کو منظوری کے لیے بھجوائے گئے تھے۔تاہم گورنر پنجاب نے بل منظور کیے بغیر واپس بھیج دیے تھے۔

آج کے اجلاس میں مذکورہ تمام بلز دوبارہ پیش کیے گئے جسے ایوان نے کثرت رائے سے دوبارہ منظور کر لیے۔بعد ازاں ملک احمد خان نے سپیکر کی اجازت سے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے خلاف ایوان میں قرارداد پیش کی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کا ایوان حلیم عادل شیخ پر امپورٹڈ حکومت کے ایما پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرتا ہے۔ وفاقی حکومت حلیم عادل شیخ پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ یہ ظلم کی رات ختم ہونے کے قریب ہے۔ایوان حلیم عادل شیخ پر جھوٹے مقدمات واپس لے کررہا کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ قرارداد کو ایوان نے منظور کر لیا۔

بعدازاں رکن اسمبلی عمر فاروق نے ایوان میں بول نیٹ ورک کے لائسنس منسوخ کے خلا ف قراردادپیش کی۔ قراردادمیں کہا گیا کہ ”پنجاب اسمبلی کایہ ایوان پیمراکی جانب سے بول نیٹ ورک کے لائسنس منسوخ کرنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتاہے۔ ایوان سمجھتاہے کہ بول نیوزکی بندش کے پیچھے ہزاروں صحافیوں کامعاشی قتل عام کرنے کامنصوبہ ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا۔

وفاقی حکومت نے بول نیوزکوبندکرکے آزادی صحافت پرگھناؤناوارکیاہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ ایوان وفاقی حکومت اورپیمراسے فوری طورپر بول نیوزکی بندش کاحکم نامہ فوری واپس لینے کامطالبہ کرتاہے۔” ایوان نے قراردادکثرت رائے سے منظور کرلی۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر سپیکرمحمد سبطین خان نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 12 ستمبر بروز سوموار سہ پہر تین بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا۔