ورلڈ ہیڈر ایڈ

مفاد عامہ سے متعلق 4 نئے آرڈیننسز ایوان میں پیش ، پنجاب اسمبلی نے منظوری دے دی

لاہور : پنجاب اسمبلی نے دیوانی اور فوجداری تنازعات کے متبادل حل کے لئے متبادل نظام کی منظوری دے دی، اطلاعات کے مطابق قانون تنازعات کا متبادل حل پنجاب 2019 ایوان سے منظور کروالیا گیا

ایوان میں میانوالی یونیورسٹی آرڈیننس 2019، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ آرڈیننس پنجاب 2019، میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز پنجاب آرڈیننس 2019 اور پروبیشن اینڈ پیرول سروس پنجاب آرڈیننس 2019 ایوان میں پیش کردیے گئے۔

چاروں آرڈیننسز متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردئیے گئے۔ سپیکر نے قائمہ کمیٹیوں کو 2 ماہ میں ورکنگ مکمل کرکے رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کردی

باغی ٹی وی کے مطابق آج کے اجلاس میں اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کردی گئی، دوسری طرف حکومتی اراکین کا کہنا ہےکہ بل پر گورنر کے دستخط کے بعد دیوانی اور فوجداری تنازعات کے متبادل حل کے لئے نیا نظام قائم ہوگا

باغی ٹی وی کے مطابق اس نظام سے دیوانی اور فوجداری دونوں تنازعات کو ثالث, مصالحت یا صلح کار کے ذریعہ حل کیا جا ۓ گا،بل کے تحت آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن سینٹرز اے ڈی آر سینٹر قائم کئے جائیں گے

اے ڈی آر سینٹرز میں فریقین کی باہمی رضامندی سے آے ڈی آر پرسن تعینات کئے جائیں گے،کریمنل یا سول کورٹس فریقین کی رضامندی کے بعد کیسز اے ڈی آر کو بھجوائیں گی،اے ڈی آر پرسن بطور ثالث یا صلح کار مقدمے کی سماعت کرے گا

پنجاب اسمبلی میں‌پاس ہونے والے اس بل کےمطابق دیوانی اور فوجداری مقدمات کی سماعت عدالت اے ڈی آر کو نوے دن کا وقت دے گی جس میں ترمیم فریقین کی رضامندی سے کی جاسکے گی،اے ڈی آر سینٹرز کو مجموعی طور پر 6 ماہ سے زائد وقت نہیں دیا جاۓ گا

ذرائع کے مطابق مقدمے کے دوران اے ڈی آر کی کارروائی پر اٹھنے والے اخراجات کیس کے فریقین برداشت کریں گےاے ڈی آر کے اخراجات کا تناسب فریقین کی باہمی رضامندی کیساتھ طے کیا جائے گا

پنجاب اسمبلی میں‌پاس ہونے والے اس بل کے مطابق اے ڈی آر پرسن مقدمے کی کارروائی مکمل کرکے کیس دوبارہ کورٹ کو بھیجے گا، اطلاعات کے مطابق اے ڈی آر کی کارروائی کی روشنی میں عدالت مقدمے کی سماعت خود کرے گی

اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن نے اے ڈی آر کے ذریعے مقدمات کی سماعت کو پرائیویٹائزیشن قرار دے دیا، رکن مسلم لیگ ن وارث کلو نے کہا کہ اب مقدمات کی سماعت بھی پرائیویٹ کردی گئی ہے,رکن مسلم لیگ ن وارث کلو نے کہا کہ اس قانون میں اپیل کا حق بھی نہیں رکھا گیا,

اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیرقانون راجہ بشارت نےکہا کہ یہ قانون فریقین کی رضامندی کی صورت میں لاگو ہوگا, جب فریقین راضی تو اپیل کیسی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.