fbpx

جعلی مراسلے اور منفی پروپیگنڈا،نئی پنجاب حکومت کیلئے بڑا چیلینج

موجودہ حکومت کو جہاں کئی مہنگائی ، بے روزگاری اور عدم استحکام جیسےچیلنجز کا سامنا ہے تو وہیں حکومت کو سوشل میڈیا پر کردار کشی منفی پروپیگنڈا اور من گھڑت افواہوں کا بھی محاسبہ کرنا ہے. پنجاب کے وزیراعلی حمزہ شہباز کو تمام معاملات پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہوگی، حکومت اور عوام کو گمراہ کرنے کیلئے آئے روز کوئی نا کوئی شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے جس پر قابو پانا بہت ضروری ہے.حال ہی میں نویں جماعت کی اسلامیات سے سیرت النبیؐ کی تعلیمات کو روکے جانے کے حوالے سے خبر موضوع بحث رہی ،جس پر
وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے سخت نوٹس لیا ، خبر کے مطابق 26اپریل 2022 کو پنجاب کریکلم اینڈ ٹیکسٹ بورڈ کی جانب سے مراسلے جاری کیا گیا جس میں نویں کلاس کی اسلامیات و سیرت النبیؐ کی تعلیمات کو روکنے کا کہا گیا-وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کی ہدایت پر پنجاب کریکلم اینڈ ٹیکسٹ بورڈ کی جانب سے تحریک انصاف کےسابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے دور میں جاری کردہ مراسلہ واپس لے لیا گیا اور وضاحت کی گئی کہ ہماری حکومت کی جانب سے نہ کوئی ایسا مراسلہ جاری کیا گیا اورنہ ہی کلاس نویں کی اسلامیات و سیرت النبیؐ کی تعلیمات کو روکا گیاہے-

واضح رہے کہ 26اپریل2022 کو پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار تھے جبکہ حمزہ شہباز نے 30اپریل کو وزارت اعلیٰ کے منصب کا حلف اٹھایا مراسلے کو موجودہ صوبائی حکومت سے منسلک کرنا حقائق مسخ کرنے کے مترادف ہے. موجودہ صورتحال میں حکومت سے منصوب لغو خبریں اور مراسلے جاری کرنے والے عناصر کا محاسبہ ضروری ہے.اس کیلئے وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کو جلد از جلد اپنی کابینہ تشکیل دینا ہو گی اور بیوروکریسی پر اپنی گرفت کو اسی طرح مضبوط کرنا ہو گا جیسے سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کی تھی.