fbpx

پنجاب حکومت نے 100 بچوں کے قاتل جاوید اقبال کی زندگی پر مبنی فلم کی ریلیز روک دی

کراچی: 100بچوں کے قتل میں ملوث بدنام زمانہ سیریل کلر جاوید اقبال کی زندگی پر بننے والی فلم ’جاوید اقبال: دی ان ٹولڈ اسٹوری آف اے سیریل کلر‘ کو پنجاب حکومت نے ریلیز سے محض ایک دن قبل روک دیا-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اداکار یاسر حسین اور عائشہ عمر کی اداکاری میں بننے والی اس فلم کو کل پاکستان بھر میں ریلیز کیا جانا تھا پنجاب حکومت نے فلم کے خلاف نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کی ریلیز روک دی ہے۔

عائشہ عمر اور یاسر حسین 100 بچوں کے قاتل کی زندگی پربننے والی فلم میں نظر آئیں گے

سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز (سی بی ایف سی) نے فلم کو ریلیز نہ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے سنسرز بورڈ کے ایک حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب انفارمیشن اور کلچر ڈپارٹمنٹ نے فلم کی ریلیز روکی، فلم پر کچھ اعتراضات سامنے آئے ہیں، بورڈ فلم کا دوبارہ سے جائزہ لے گا جس کے بعد اس کی ریلیز سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا فلم کے دوبارہ جائزہ لینے کی تاریخ کا اعلان نہیں کر سکتے لیکن جب بھی فیصلہ ہوا تو عوام کو بتایا جائے گا یہ پاکستان کی پہلی فلم نہیں ہے جو ریلیز سے ایک روز قبل روک دی گئی ہو۔

سال 2022 میں آنیوالی:”سوبچوں کےقاتل جاویداقبال”سمیت بڑی بڑی پاکستانی فلموں کی تفصیل آگئی

سی بی ایف سی کے ترجمان کے مطابق بورڈ نے جاوید اقبال کی زندگی پر بننے والی فلم کی ریلیز روکی، چیئرمین ارشد منیر کا اس حوالے سے بالکل واضح مؤقف ہے، دیگر صوبوں کے سنسرز بورڈ بھی اس کا دوبارہ جائزہ لے سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد سے تمام صوبوں کے اپنے اپنے فلم سنسرز بورڈ ہیں چونکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے سنسرز بورڈز نہیں بنائے اور دونوں ہی سی بی ایف سی پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے واضح امکان ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان بورڈ بھی فلم کی ریلیز کی اجازت نہیں دیں گے۔


واضح رہے کہ 100 سے زائد بچوں کو بے دردی سے قتل کرکے ان کی لاشوں کو تیزاب میں ڈال کر گلانے والے قاتل جاوید اقبال کو 16 مارچ 2000 کو عدالت نے اسے 100 بار سزائے موت کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجرم اور اس کے ساتھی کو بچوں کے ورثا کے سامنے اسی زنجیر سے پھانسی دی جائے جس سے وہ بچوں کا گلا گھونٹتا تھا اس کے بعد ان کی لاشوں کے ٹکڑے بھی اسی طرح تیزار کے ڈرم میں ڈالے جائیں جیسے وہ بچوں کی لاشوں کے ٹکڑے ڈالتا تھا۔

لیکن اس کی نوبت نہیں آئی کیونکہ گرفتاری کے دو سال بعد 9 اکتوبر 2001 کو جاوید اقبال اور اس کا ساتھی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں مردہ پائے گئے تھے-

اسموکنگ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد آئٹم نمبر کی پیشکش ہوئی،علیزے شاہ