پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام ، الیکشن کمیشن نےا عتراضات لگا دئیے

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب کے نئے بلدیاتی نظام کو الیکشن ایکٹ کے متصاد م قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نظام کے تحت الیکشن نہیں ہو سکتے

لوکل گورنمنٹ بل پنجاب اسمبلی سے منظور،مسلم لیگ ن ناکام

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کانیابلدیاتی قانون الیکشن ایکٹ کےمتصادم قراردیا گیا ہے، بلدیاتی قانون کی کئی شقیں الیکشن ایکٹ سے متصادم ہیں،الیکشن کمیشن نے موجودہ بلدیاتی قانون پرپنجاب میں انتخابات کرانےسےمعذرت کی لی ہے. الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن ایکٹ کےمطابق بلدیاتی قانون تک انتخاب نہیں ہوسکتا،بلدیاتی قانون کی حلقہ بندیوں پرابہام ہے،ووٹرزلسٹوں،الیکشن کےطریقہ کارسےمتعلق شقوں میں ابہام ہے،

پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام، لاہور ہائیکورٹ نے بڑا حکم دے دیا

الیکشن کمیشن نے پنجاب کے نئےبلدیاتی قانون پراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق ایک ہی ووٹرزلسٹ لازم ہے،بلدیاتی قانون میں مسلم،غیرمسلم کی الگ ووٹرزلسٹ بنانے کا کہا گیا ہے

واضح رہے کہ نیا بلدیاتی نظام پنجاب اسمبلی سے منطور ہو چکا ہے، مسلم لیگ ن نے بل پیش کرنے کے موقع پر ایجنڈےکی کاپیاں پھاڑ دی تھیں اور بھر پور احتجاج کیا تھا، تحریک انصاف اس بل کے پاس ہونے کو بہت بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے . نئے ترمیمی بل کے تحت ناظمین اب چئیرمین کہلائیں گے، تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سٹی لوکل گورنمنٹس بنائی جائیں گی۔تحصیل کونسل چیئرمین اور میئر سٹی لوکل گورنمنٹ کے انتخابات جماعتی بنیاد پر جبکہ ویلیج و نیبر ہوڈ کونسل کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے

مسلم لیگ ق کے رہنما سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراسمبلی سے منظور کردہ بلدیاتی نظام کوخیبر پختونخواکے نظام کا کاپی پیسٹ قراردے دیا .مونس الہیٰ کا کہنا تھا کہ پنجاب اور کے پی کے کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا،دونوں صوبوں کی آبادی اوررقبے میں واضح فرق ہے،نئے بلدیاتی نظام میں ماضی کی طرح کئی نقائص ہیں،چارہزاریونین کونسل کی جگہ 24 ہزارولیج اور پنچایت کونسلزبہت زیادہ ہیں ،ایسے نظام سے انتظامی ڈھانچے اور مالی اخراجات میں چھ گنا اضافی ہوگا ،کم ازکم آٹھ ارب روپے سالانہ اور دیگر اخراجات ضائع ہوں گے ،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.