fbpx

چیف الیکشن کمشنر نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کےمعاملے پراہم اجلاس طلب کرلیا

اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عام انتخابات اور ضمنی الیکشن کے معاملے پر اہم اجلاس طلب کرلیا۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اہم اجلاس آج ہوگا، عام انتخابات اور ضمنی الیکشن کے اخراجات اور تیاریوں پر بریفنگ دی جائے گی۔

الیکشن کمیشن نے پنجاب اور کے پی کے میں تقرریاں و تبادلوں پر پابندی لگادی

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عام انتخابات ایک ہی دن نہ کرانے کی تجویز دی جائے گی، حکام نے پنجاب کے عام انتخابات یکم سے 10 اپریل تک کرانے کی تجویز دی ہے جبکہ کے پی میں 10 سے 15 اپریل تک انتخابات کراوئے جاسکتے ہیں۔

اسی طرح ضمنی انتخابات مارچ کے پہلے ہفتے میں کروانے کی تجویز زیر غور ہے تاہم عام انتخابات سے متعلق حتمی فیصلہ چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس میں ہوگا جبکہ عام اور ضمنی انتخابات میں اخراجات کا تخمینہ بھی لگا لیا گیا ہے تاہم دونوں صوبوں اور ضمنی الیکشن پر تقریبا 15 ارب روپے کے اخراجات آئیں گے۔

الیکشن کےدوران پنجاب میں 53 ہزار، کےپی 17 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم ہوں گےجہاں 7 لاکھ تک پولنگ اسٹاف کی ضرورت ہوگی، دونوں صوبوں کے عام انتخابات میں 5 لاکھ تک پولیس فورس تعینات ہوگی جبکہ عام انتخابات میں حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن پر فوج اور رینجرز تعینات کی جائے گی۔

چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس کے بعد گورنر کو عام انتخابات سے متعلق خط لکھا جائے گا، جس کے بعد گورنرز الیکشن کمیشن کی مجوزہ تاریخ کا جائزہ لیکر حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے۔

سیف الملوک کھوکھر ن لیگ لاہور کے صدر مقرر

دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب بھر میں ٹرانسفرپوسٹنگ پرپابندی عائد کر دی گئی ہے صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے نگران سیٹ اپ کے لیے ہدایات جاری کرتے ہوئے چیف سیکریٹری پنجاب، آئی جی اور تمام متعلقہ حکام کو مراسلہ جاری کردیا۔

مراسلے میں الیکشن کمشنرپنجاب نے ٹرانسفر پوسٹنگ کے علاوہ نئے ترقیاتی منصوبوں پربھی پابندی عائد کی ہےاور سابق وزیراعلیٰ اور سابق وزرا سے پروٹوکول سمیت سرکاری گاڑیاں بھی واپس لینے کے ساتھ ساتھ سرکاری رہائش گاہ، سرکاری ہاسٹلز وگیسٹ ہاؤسز کو بھی خالی کرانےکی ہدایات کی گئی ہے الیکشن کمیشن کی جانب سے نگران سیٹ اپ کو روٹین کا کام جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی جانب سے نامزد کردہ محسن رضا نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب تعینات کردیا تھا اور بعد ازاں انہوں نے نگران وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا تھا۔

پنجاب: نگران کابینہ کی تشکیل کیلئے مشاورت ،منتخب 6 وزرا کا آج حلف اُٹھانے کا امکان

گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے گورنر ہاؤس میں نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی سے عہدے کا حلف لیا، اس سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے محسن نقوی کے تقرر کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا تھا۔

اس سے قبل نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی دوطرفہ پارلیمانی کمیٹی مقررہ وقت میں کسی نام پر اتفاق رائے میں ناکام رہی تھی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب کیا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں کمیشن سیکریٹریٹ میں الیکشن کمیشن کےارکان کاخصوصی اجلاس ہوا تھا، اجلاس میں الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا کے رکن اکرام اللہ خان، سندھ کے رکن نثار درانی، بلوچستان کے رکن شاہ محمد جتوئی اورپنجاب کے رکن بابر حسن بھروانہ نے بھی شرکت کی تھی۔

تحریک انصاف کےمزید 43 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور