fbpx

وزیراعظم کی آمد سے چند گھنٹے پہلے:پنجاب میں ایک ہی دن 62 ایس ایچ اوز معطل‌،باقی تتربترکردئیے گئے

لاہور:وزیراعظم کی آمد سے چند گھنٹے پہلے:آئی جی پولیس پنجاب کے احکامات پرمبینہ طور پر کرپشن   میں ملوث ایس ایچ اوز کو ہٹانےکا سلسلہ جاری ہے، پنجاب بھر میں62 ایس ایچ اوز کو ایک ہی دن معطل کر دیا گیا۔ باقی پرتلوار طاری ہے ،

 

 

 

اطلاعات کے مطابق جیسا کہ بتایا جارہا ہےکہ کل وزیراعظم عمران خان اہم دورے پرلاہورپہنچ رہے ہیں ان کی آمد سے چند گھنٹے پہلے بزدارسرکارکی طرف سے پولیس میں بڑے پیمانے پرمعطلیاں اورتقرروتبادلے بڑی اہمیت اختیارکرگئے ہیں

 

 

پولیس رپورٹ کے مطابق 62 ایس ایچ اوز کو ان کے عہدوں سے فوری طور پر ہٹا دیا گیا۔

48 ایس ایچ اوز کی فہرست سینٹرل پولیس آفس سے بھجوائی گئی تھی، جب کہ 14 ایس ایچ اوز کو اضلاع کے افسران نے خود اپنی رپورٹ پر ہٹایا۔

 

 

رپورٹ کےمطابق سب سےزیادہ فیصل آباد سے 8 ایس ایچ اوز کو معطل کیا گیا،لاہور کے 7 ایس ایچ  اوز، شیخوپورہ اور قصور کے 4،4،گجرات ،ننکانہ ،راولپنڈی، جہلم، خانیوال اور بہاولنگر کے 3،3 ایس ایچ اوز معطل کیےگئے۔

 

 

بہاولپور، پاکپتن اور سرگودھا کے 2 ،2 ،جب کہ سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین، اٹک، چکوال اور خوشاب کا ایک ایک ایس ایچ او معطل کیا گیا۔

 

آئی جی پنجاب نے جن ایس ایچ اوز پر مقدمات ہیں، انہیں فوری ہٹانے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں

باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق لاہور میں ابھی تھوڑی دیر پہلے پولیس افسران میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ شروع کر دی گئی۔

 

اعلیٰ پولیس حکام سے ملنے والی اطلاعات میں‌بتایا گیا ہےکہ پہلے مرحلے میں 12 انچارج انویسٹی گیشن کو ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے

 

یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ لاہورمیں‌اس حوالے سے بڑی تبدیلی انچارج انویسٹی گیشن کا تبادلہ ہے

معتبر ذرائع کے مطابق دیگرتبدیلیوں میں ڈیفنس مناواں بھاٹی گیٹ ہڈیارہ ریس کورس فیصل ٹاؤن سمیت دیگر انچارج شامل ہیں

 

یاد رہے کہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عمران خان نے عثمان بزدار کو ایک مہینے کا وقت دیا ہے اورکہا ہے اگروہ حالات بہترنہیں کرسکتے توان کو وزارت اعلیٰ سے ہاتھ دھونا پڑیں‌گے ،

یہ تقرروتبادلے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے لیکن کیا صرف تقرروتبادلے سے حالات بہترہوتے ہیں یہ تجربات پہلے بھی ناکام ہوچکے ہیں‌

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.