پیار، محبت اور عشق میں فرق تحریر محمد احسان ارشد

0
315

عنوان سے پتہ لگ گیا ہو گا آج کس پر تحریر لکھنے والا ہوں آج کے موضوع سے کچھ اپنے حقائق بیان کروں گا کہ پیار، عشق اور محبت کیا ہیں؟ کیا یہ ایک ہی احساس کا نام ہے؟
آج لوگ ایک دوسرے کو پسند کرنے کو پیار عشق اور محبت کا نام دے دیتے ہیں جو کے مکمل طور پر بے بنیاد ہے اگر ان کے حقائق پر جائے تو بہت کچھ پتہ چلتا ہے جیسے
پیار        مطلب       حاصل شدہ
محبت    مطلب       رشتوں کا جوڑنا یا جوڑ دینا
عشق      مطلب      لاحاصل
1- پیار
لفظ پیار اصل میں دانائی کے مطابق پیار کا مطلب حاصل شدہ مواد ہے جیسے کوئی چیز یا انسان کو پانے کی حد تک جدوجہد کرنا اس میں مخلص رہنا وہ سب کرنا جس سے اس کو پانے کی آرزو زیادہ ہو. لیکن حاصل ہونے والا  مواد یا انسان اس کے بعد اس رشتہ میں احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے. اور یہ ایک عام بات ہے کیونکہ آپ نے وہ چیز پانےکی حد تک کا سفر کرنا تھا سفر بعد کا نہیں. اس پیار کو محبت کہنا غلط ہو گا
2- محبت
محبت ایک لفظ ہے اور جب آپ اس لفظ کا ستعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپکی اس لفظ سے آشنائی ہے. اگر یہ کہا جائے کہ بینائی کیا ہے؟ تو پھر اسکا جواب یہ ہے بینائی دیکھنے والی چیز ہے. اسی طرح محبت جو ہے وہ محبت ہے اگر آپ محبت کی تعلیم دے رہے ہیں تو آپ کیا کر رہے ہیں؟ محبت کی کوئی تعریف نہیں ہو سکتی. پہلی بات جو انسان محبت سے آشنا نہ ہو وہ سمجھنے سے قاصر ہے اور جو آشنا ہے اسے محبت کی سمجھ ہی نہیں آئے گی کیونکہ محبت کو آپ ماپ نہیں سکتے اور اس کی کوئی تعریف نہیں.
جو محبت کی تعریف اور اس احساس کو جانتا ہے وہ محبوب سے دور ہے. بہر حال محبت میں ایک چاہنے والا اور ایک چاہا والا ہوتا ہے ان دونوں چاہنے والے اور چاہے جانے والے کے درمیان رشتہ کو ” محبت” کہتے ہیں. محبت میں دو انسان کا ہونا لازمی ہے ایک ” محب” اور دوسرا "محبوب” تب اس تعلق کا نام محبت بنتا ہے. مزید اگر محبت کو اپنی دانائی سے بیان کرو تو محبت کا مطلب جوڑنا یا جوڑ دینا بھی ہے محبوب اور محب کا ملنا ہی محبت نہیں بلکہ اس رشتہ کو اسی احساس سے لے کر چلنا اور اسی احساس میں محبت کے دائرے کو وسیع کرنا رستوں کے بندھن کو جوڑئے رکھنا اگر محبت کہا جائے تو غلط نہیں
3- عشق
کسی نے کسی سے دل لگی کی تو اس کو پیار عشق محبت کا نام دے دیا جاتا ہے. اصل میں عشق کے معانی ہی” لاحاصل” کے ہیں.
لاحاصل مطلب کسی ایک انسان کی قربت اس کے احساس اس کے جنون اسکی محبت اسکی تمنا میں اپنے آپ کو فنا کر دینا زندہ رہنا باعث اس کے لیے دنیا کی دنیاداری سے الگ رہنا. عشق میں آپ کی زندگی ایک انسان کی قربت میں گرز جاتی ہے جسکا آپ کو ہر ایک اچھا پن یا برا پن ہونے کا احساس ختم ہو جائے وہ عشق ہے. اس کرہ ارض پہ ایک انسان آپ کی دنیا بن کے راہ جاتا ہے دنیا کے لیے چاہیے وہ فنا ہو چکا ہو آپ کے لیے آپ کے عشق نے اسے آب حیات جیسے پلایا ہو. جیسے عشق کی مثال دی جائے تو دیکھو ان فقیروں کو درویشوں کو ملنگوں کو بابا بلھے شاہ  ہیر رانجھا یا پھر لیلیٰ مجنوں کو. ان میں کسی نے انسانوں میں اپنا اپ فنا کیا اور کسی نےرب سے لو لگا کے فنا ہوئے لیکن اس عشق کی دوڑ میں کامیابی وہی پایا جس نے عشق اس پاک ذات سے کیا.
سوال یہ ہے کیا پیار عشق محبت کرنا جائز ہے؟ تو جواب ہے اس میں گناہ نہیں شرط اگر من پاک ہے اگر محبت گناہ ہوتی تو نا کرتا میرا سوہنا رب اپنے محبوب سے اور نا بنتی اس کے عشق میں یہ کل کائنات.
عشق اندھا ہے  محبت پاک ہے   پیار منزل ہے ارمان ہے
اپنے مراسلے کے اختتام پر ایک پنجابی شعر لکھو گا

لیلیٰ نے کیتا سوال میاں مجنوں نوں
تیری لیلیٰ تے رنگ دی کالی اے
دتا جواب میاں مجنوں نے
تیری اکھ نہ ویکھن والی اے
قرآن پاک دے ورق چٹے
اتے لکھی سیاہی کالی اے
چھڈ وے بلھیا، دل دے چھڈیا
تے، کی کالی، کی گوری اے

Twitter @OfficalihsanMg  

Leave a reply