fbpx

پارٹی سربراہ کی ہدایات کیخلاف ووٹ دینے پر ق لیگی اراکین ڈی سیٹ ہو جائیں گے

لاہور:پارٹی سربراہ کی ہدایات کیخلاف ووٹ دینے پر ق لیگی اراکین ڈی سیٹ ہو جائیں گے، اس حوالے سے سینئر صحافی مبشرلقمان نے ماہرانہ اور قانونی نقطہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح پچھلے چند دنوں سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں پارٹی پالیسیکے خلاف ووٹ دینے کے حوالے سے ریمارکس دیئے گئے ہیں ان سے واضھ ہورہا ہےکہ پارٹی سربراہ کی ہدایات کیخلاف ووٹ دینے پر ق لیگی اراکین ڈی سیٹ ہو جائیں گے

 

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اج جس طرح پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کے تمام اراکین جنہوں نے چوہدری پرویز الٰہی کو ووٹ دیا تھا بشمول چوہدری پرویز الٰہی اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نااہل ہو جائیں گے اور آرٹیکل 63 اے کے تحت فرد جرم عائد کر دی جائے گی۔ جس کا مطلب ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کچھ عرصے بعد پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نہیں ہوں گے۔

پنجاب میں وزیراعلیٰ کے انتخاب میں مسلم لیگ ق کے ووٹوں کی گنتی کا معاملہ اہمیت اختیار کرگیا۔سپریم کورٹ نے پارٹی ڈائریکشن سے منحرف ارکان کے ووٹ شمار نہ کرنےکی رائےدی ہے۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کے مختصرحکم نامے میں یہ رائے دی ہے۔

سپریم کورٹ نے پارٹی سربراہ کا منحرف رکن کےخلاف ایکشن لینے یا نہ لینےکا اختیارختم کیاتھا۔سپریم کورٹ نے قراردیاہے کہ پارٹی ہیڈ ڈکلئیریشن دےیا نہ دےمنحرف رکن کاووٹ شمارنہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت کی جانب سے وزارت اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت سے انکار کردیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق چوہدری شجاعت نے ق لیگ کے ارکان کو خط میں ہدایت دی ہے کہ کسی کو ووٹ نہیں دینا۔

اس صورتحال کے بعد پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں مسلم لیگ ق کے ارکان شش و پنج کا شکار رہے اور کافی دیر تک اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

بعدازاں چوہدری پرویز الٰہی سمیت ق لیگ کے ارکان نے اپنے ووٹ کاسٹ کر دیے ہیں اور پارٹی سربراہ کی ہدایت کے برخلاف پی ٹی آئی امیدوار پرویز الٰہی کو ووٹ دیا۔