fbpx

قائد عوام کو پھانسی نہ دی جاتی تو پاکستان آج متحرک معیشت کیساتھ ایک فلاحی ریاست ہوتا، بلاول بھٹو

قائد عوام کو پھانسی نہ دی جاتی تو پاکستان آج متحرک معیشت کیساتھ ایک فلاحی ریاست ہوتا، بلاول بھٹو

باغی ٹی وی : بلاول بھٹو نے عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخواکےصدرایمل ولی خان کوفون کیا .بلاول بھٹواورایمل ولی کےدرمیان ملک کی مجموعی صورت حال پرتبادلہ خیال خیال ہوا .بلاول بھٹونےایمل ولی سےان کےوالداسفندیارولی کی خیریت دریافت کی.بلاول بھٹوزرداری نے ذوالفقارعلی بھٹوکی برسی پرپیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ قائدعوام کوشہیدنہ کیاجاتاتوپاکستان آج متحرک معیشت کیساتھ ایک فلاحی ریاست ہوتا،آج پاکستان پوری دنیاکیلئےایک رول ماڈل اسلامی ملک کی حیثیت رکھتا،.ذوالفقارعلی بھٹوایک بےمثال رہنماتھے.

واضح‌رہے کہ قائد عوام اور پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی 42ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔

ذوالفقارعلی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں شاہنواز بھٹو کے گھر پیدا ہوئے۔ برکلے یونیورسٹی سے سیاسیات کی تعلیم حاصل کی۔ مسلم لاکالج کراچی میں تدریس اور سندھ ہائیکورٹ میں وکالت سے کیرئیرکا آغاز کیا۔

سکندرمرزاکی کابینہ کارکن رہنے کے بعد ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت، وزیراطلاعات، وزیرصعنت اوروزیرخارجہ رہے۔ذوالفقارعلی بھٹو نے 1967 میں پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی جو 1970 کے انتخابات میں مغربی پاکستان میں اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی۔

انہوں نے اپنے دورحکومت میں پاکستان کو 1973 کا متفقہ آئین دیا،پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انقعاد ممکن بنایا۔ذوالفقارعلی بھٹو نے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیربنانے کیلئے ملک میں ایٹمی پروگرام بھی شروع کیا۔

977 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد امن وامان کی خراب صورتحال پرضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا، انہیں ستمبر 1977 میں نواب احمد خان کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

1978 میں ہائیکورٹ نے ذوالفقارعلی بھٹوکوسزائے موت کا حکم دیا جسے سپریم کورٹ نے برقراررکھا۔ 4 اپریل 1978 کو انہیں روالپنڈی جیل میں پھانسی دیدی گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.