fbpx

قائد اعظم کا پاکستان:-

پاکستان 14 اگست 1947 کو ہمارے بزرگوں کی جانی مالی قربانیوں کی وجہ سے معرضِ وجود میں آیا۔ قائد اعظم کا خواب تھا کہ یہ ملک اسلامی فلاحی ریاست بنے جو کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے انسان کو اپنی اولاد کی طرح پالے، ہر کسی کی جان و مال محفوظ ہوں۔

میرے ذہن میں کچھ سوالات آتے ہیں جن کے جوابات مجھ سمیت پوری قوم کے لئے جاننا ضروری ہیں۔

قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ آپ کی سیاسی و مذہبی بصیرت کیا تھی؟ پاکستان کا دستور و آئین کیسا ہو گا؟

ریاست پاکستان ایک عظیم نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آئی, اِس کی بنیاد رکھنے والے قائد اعظم ہر طرح کی مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور ہر قسم کے تعصب سے پاک ریاست چاہتے تھے۔ وہ ایک ایسے پاکستان کی تشکیل چاہتے تھے۔ جہاں آئین کی بالادستی ہو، جہاں پارلیمان آزادی اور خودمختاری سے فیصلے کر سکے، جہاں ہر شہری کو بلا امتیاز انصاف میسر ہو اور وہ اپنی عبادات اور رسومات کو آزادی سے ادا کر سکے، جہاں درسگاہیں علم و دانش کا گہوارا ہوں، تعلیم، روزگار اور صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہو، جہاں عورت کی عزت و توقیر کو مقدم رکھا جائے۔

قائداعظم نے جب پہلی بار پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کیا تو اُس میں واضح اور واشگاف الفاظ میں کہا "آپ سب پاکستانی ہیں، آپ کا جو بھی مذہب اور عقیدہ ہے ریاست کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں آپ بلا خوف و خطر اپنی عبادت گاہوں میں جائیں۔

قائد اعظم اپنی سیاسی زندگی میں تقریباً 35 سال تک ہندوستان کی امپیریل لیجسلیٹیو کونسل کے رکن رہے۔ اس دوران آپ نے جمہوری آزادی اور قانون کی بالادستی کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی۔

قائد اعظم کی زندگی کا اہم ترین مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی، جمہوری اور آئینی حقوق کی پاس داری تھا اور وہ خود بھی کبھی قانون شکنی کے مرتکب نہیں ہوئے۔ آپ جمہوریت اور پارلیمانی نظام کے سب سے بڑے حامی اور مشاورت پر پختہ یقین رکھنے والے تھے۔

لندن کے روزنامہ ورکر لندن کو ایک انٹرویو میں قائد اعظم نے کہا کہ وہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک جمہوری ملک بنانا چاہتے ہیں جس کا کسی بھی رنگ یا نسل سے کوئی تعلق نہ ہوگا اور وہ جمہوری حکومت عوام کے تابع اور عوامی امنگوں کی ترجمان ہوگی۔

آپ نے واضع کر دیا تھا کے جمہوریت مسلمانوں کے خون میں شامل ہے کیوں کہ مسلمان، انسانیت، برابری، بھائی چارے اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔

قائد اعظم پاکستان میں ایسا پارلیمانی جمہوری نظام عوام کو دینا چاہتے تھے جس میں قانون کی بالادستی ہو، وہ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ چاہتے تھے جو صرف اور صرف  جمہوری پارلیمانی نظام حکومت سے ہی ممکن ہے۔

یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ کس طرح کا پاکستان چاہتے تھے۔ لیکن کیا ہم نے ان ستر سالوں میں پاکستان کو وہ اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی کوشش کی جس کا انہوں نے اپنی مختلف تقاریر میں ذکر کیا۔

Twitter ID:

‎@farazrajpootpti