fbpx

قیدی کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود،عدالت نے کی رپورٹ طلب

ججز کے دورے کے دوران اڈیالہ جیل کے حکام کی قیدیوں سے ناروا سلوک کی نشاندہی کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مجسٹریٹ کو قیدی کو اڈیالہ جیل سے طلب کرنے کا حکم د ے دیا ،عدالت نے‌حکم دیا کہ قیدی کا میڈیکل بورڈ سے طبی معائنہ کروایا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے مجسٹریٹ کو قیدی کا بیان قلمبند کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ قیدی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے گواہوں طلب کرسکتے ہیں،تشدد کا واقعہ ہوا یا نہیں، ایک ہفتے میں تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے، مبینہ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے قیدی کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود ہیں، کسی بھی قیدی پر تشدد کی اجازت نہیں دی جاسکتی، جوڈیشل مجسٹریٹ قیدی کی دوران حراست حفاظت یقینی بنائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 7دسمبر تک ملتوی کردی

ایک رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ٹھیکے پر دیئے جانے کا انکشاف ،ہر ایک کے ریٹ فکس ہوتے ہیں ،اڈیالہ جیل کے سابقہ قیدی راجہ فواد نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چیف مہتاب ، ملک طاہر اور راحیل نامی شخص محکمہ جیل کے ناسورہیں، اڈیالہ جیل میں منشیات فروشی میں ملوث ہیں ، اڈیالہ جیل میں دو لاکھ روپے میں موبائل فون رکھنے کی اجازت دی جاتی ہے ، سابقہ قیدی اڈیالہ جیل راجہ فواد نے کہا کہ دہشتگردوں کے لیے بنائے گئے ٹارچر سیل میں قیدیوں کو ڈال کر تشدد کیا جاتا ہے ، مالی طور پر مضبوط قیدیوں کو لڑائی جھگڑے کے کیس میں ملوث کر کے ٹارچرسیل منتقل کیا جاتا ہے بعد ازاں گھر والوں سے پیسوں کا تقاضہ بھی کیا جاتا ہے ، سابقہ قیدی کا نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہنا تھا جیل انسپکشن اور دوروں کے درمیان اگر کوئی قیدی شکایت کر دے تو اس پر سنگین نوعیت کا تشدد کیا جاتا ہے ،

مخصوص سہولیات کیلئے بیرک نمبر 1 تا 8 دو لاکھ 30 ہزار روپے فی قیدی ریٹ طے پا گیا۔زرائع کے مطابق بیرک نمبر 9 ایک لاکھ 20 ہزار روپے فی قیدی طے ہوا ہے قصوری بیرک کا ریٹ 3 لاکھ 50 ہزار روپے فکس کر دیا گیا ہے۔بڑے جرائم پیشہ افراد جیل اسپتال منتقلی 1 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کریں گے۔زرائع جیل فیکٹری ماہانہ 13 لاکھ روپے ٹھیکے پر دے دی گئی قیدی لنگر 20 لاکھ سے اوراندرون تلاشی 22 لاکھ رشوت وصول کیجائے گی۔زرائع جیل پی سی او سے ماہانہ 7 لاکھ روپے رشوت طے کی گئی ہے۔ غلہ گودام سے 45 لاکھ روپے اور نیب کے کیسز میں قید وی آئی پی ملزمان 2 لاکھ روپے فی قیدی رشوت دیں گے۔بی کلاس میں ملاقات کیلئے 50 ہزار روپے اور اڈیالہ جیل کانفرنس ملاقات کا ریٹ 70 ہزار روپے طے کیا گیا ہے۔ایڈمن بلاک میں پریزن رہائش گاہوں کے دونوں فلور کے کمرے 35 لاکھ روپے کرائے پر دئیے گئے جیل میں منشیات خصوصا آئس،شراب فراہمی کا ٹھیکہ مخصوص کنٹریکٹر کو 42 لاکھ روپے میں دیا گیا ۔کینٹین اور چوکر قوانین میں سنگین بے ضابطگیاں لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔جیل میں الیکٹرونک ڈیوائسز اور موبائلز فون کے استعمال سے بین الاقوامی گینز سے رابطے بحال کرنے کیلئے بھاری رشوت کا انکشاف ہوا ہے۔

اڈیالہ جیل میں پریزن آفیسر سیکشن میں ملاقات کیلئے جیل کا مین سوئچ بند کرکہ خصوصی ملاقات اور محفلیں سجائیں جاتی ہیں۔ مختلف ادوار میں تعینات سپریڈنٹ جیل کا سابقہ سروس ریکارڈ ان کے کرتوتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔راولپنڈی اڈیالہ جیل میں انتظامیہ کے رویہ سے دلبرداشتہ عمر قید کے مجرم کی خودکشی کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔

فون پر دوستی، لڑکی کو ملنے گھر جانیوالے نوجوان کو پہنائے گئے جوتوں کے ہار اور کیا گیا تشدد

دورانِ مجلس عورتوں کے کانوں سے سونے کی بالیاں اُتارنے والی ملزمہ گرفتار

طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار