fbpx

قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس، کمیٹی کے زیرمعاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

اسلام آباد میں ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر پرنس احمد عمراحمد زئی کے زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ہے، اجلاس میں سینیٹرزفیصل سلیم رحمان، سیف اللہ ابڑو، دنیش کمار، شمیم آفریدی، محمد اکرم، حافظ عبدالکریم، عبدالقادر کے علاوہ سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے، آئی جی موٹروے پولیس، ڈی جی پوسٹل سروسزاوردیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ہے، اجلاس میں وزارت مواصلات اوراس کے ماتحت اداروں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، موٹروے پولیس اور پاکستان پوسٹل سروسز کی کارکردگی، فنکشنز، بجٹ، ملازمین کی تعداد کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے.

چیئرمین کمیٹی سینیٹرپرنس احمد عمراحمد زئی نے قائمہ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں اراکین کمیٹی، وزارت اورماتحت اداروں کے حکام کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہت اہم ادارہ ہے، ہم سب مل کرمعاملات کومزید بہتر بنانے کیلئے لائحہ عمل اختیارکریں گے، سی پیک کی وجہ سے تمام لوگوں کی نظریں ان اداروں کی کارکردگی پرہے، وزارت کے مسائل کو بھی حل کیا جائے گا، قائمہ کمیٹی کو سیکرٹری مواصلات ظفرحسن نے مواصلات کے نظام کومزید مربوط بنانے کیلئے بھرپورتعاون کا یقین دلایا ہے.

چیئرمین این ایچ اے نے قائمہ کمیٹی کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے فنکشنز، اسٹریکچر، پی ایس ڈی پی منصوبہ جات، بجٹ، ملازمین کی تنخواہیں، سی پیک منصوبہ جات اوراین ایچ اے کے جاری اورنئے منصوبہ جات کے بارے تفصیل سے آگاہ کیا ہے، کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں محفوظ اورشاندارمواصلات کے نظام کوقائم کرنا ادارے کا مشن ہے، موجودہ حالات کے تناظرمیں رولز میں ترامیم کے ذریعے تجاویزمنظوری کیلئے بھیجی گئی ہیں، قائمہ کمیٹی اس حوالے سے مدد کرے گی، 13 بین الاقوامی معاہدات بھی ہیں اورسی پیک منصوبہ جات کو جوائنٹ ورکنگ گروپس میں تقسیم کرکے قابل عمل بنایا جارہا ہے، ملک میں کل روڈ نیٹ ورک 13572کلو میٹرہیں، جس میں سے 2255کلو میٹرموٹر وے ہیں، 155ارب کے پی ایس ڈی پی کے 62 منصوبہ جات ہیں جن میں 47 جاری منصوبہ جات اور15نئے ہیں.

قائمہ کمیٹی کوسی پیک مغربی روٹ پربھی مکمل بریف کیا گیا ہے، قائمہ کمیٹی کوسینیٹرحافظ عبدالکریم کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ہکلا سے ڈی آئی خان پیکج ستمبر2021میں مکمل ہو جائے گا، 91 فیصد کام ہوچکا ہے، سینیٹر دنیش کمارکے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ موٹر وے اُن علاقوں میں بنائی جاتی ہے جہاں ضرورت ہو، ٹریفک کا رش ہو، پہلے ہائی ویزبنتی ہیں پھرموٹرویز بنتی ہیں، سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ ٹھیکیدارمافیا بہت سرگرم ہے 30 سے 40 فیصد کم پرٹھیکہ لے لیتے ہیں پھراُسے ریوائزکرایا جاتا ہے.

چیئرمین کمیٹی سینیٹرپرنس احمد عمراحمد زئی نے کہا کہ ان چیزوں کا خیال رکھا جائے تا کہ ملک کو منصوبہ جات کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ سے اربوں روپے کا نقصان نہ ہو، کم ٹھیکہ دینا کہیں کسی کو نوازنے کیلئے تو نہیں دیا جاتا جس پر چیئرمین این ایچ اے نے کہا کہ کم ٹھیکہ کو روک نہیں سکتے البتہ ایک کمیٹی بنائی ہے جو اس کا جائزہ لے گی اورکارکردگی رپورٹ کی بجائے بینک گارنٹی کی طرف جا رہے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کو آئی جی موٹروے پولیس نے موٹروے پولیس کی کارکردگی، بجٹ اورکام کے طریقہ کارکے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ لوگوں کو محفوظ، آرام دہ سفر کی سہولیات پہنچانا ادارے کا مشن ہے، ہرسال دنیا میں 13لاکھ افراد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں، ہمارا مشن 2030 تک 6 ہزارزندگیاں بچانی ہے، کمیٹی کو بتایا گیا کہ انقریب ادارے میں مزید بھرتیاں کرکے لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جائے گا.

سینیٹر دنیش کمارنے کہا کہ بھرتیوں میں صوبائی اوراقلیتوں کے کوٹے کوملحوظ خاطررکھ کرعمل کیا جائے اورآئندہ اجلاس میں اس کی تفصیلات بھی دیں جائیں، کمیٹی کو بتایا گیا کہ لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے 35ہزارچالان روزانہ کئے جا رہے ہیں لوگوں کو آگاہی کیلئے سیمینارز، ورک شاپس، واکس اورتربیتی پروگرام بھی عمل میں لائے جاتے ہیں، موٹروے پولیس نے 2018-21تک 426 بچوں کو والدین سے ملایا اور 98 فیصد شکایات کو بھی حل کیا، 399جرائم پیشہ افراد کو بھی پکڑا گیا ہے.

سینیٹرسیف اللہ ابڑو نے کہا کہ حیدرآباد سے کراچی کے درمیان مقامی پولیس سڑک کے درمیان میں گاڑیاں کھڑی کرکے چیکنگ کرتی ہے جس سے حادثات کا بھی خطرہ ہے اس مسئلے کو مقامی پولیس کے ساتھ حل کیا جائے.

قائمہ کمیٹی کو ڈی جی پاکستان پوسٹل نے ادارے کے کام، بجٹ، ملازمین کی تعداد اوراسٹریکچر کے بارے مین تفصیلی آگاہ کیا ہے، کمیٹی کو بتایا گیا کہ کل ملازمین کی تعداد 47348ہے جن میں سے 31635ریگولر ہیں اور باقی پارٹ ٹائم پرہیں، 8463 خالی آسامیاں ہیں ادارے کے پاس 4155عمارتیں ہیں۔ 838دفاتر، 3317مکانات اور120خالی پلاٹ ہیں، کمیٹی کو بتایا گیا کہ اگلے سال پوسٹل سروس کے ملازمین کی پنشن اے جی پی آرسے جاری ہوگی، ادارے کی آمدن 15 ارب جبکہ اخراجات 25.5 ارب ہیں زیادہ اخراجات تنخواہوں اورپنشن کی مد میں ہوتے ہیں.

جس پرچیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ادارے کو نفع بخش بنانے کیلئے مل کراقدامات اٹھائیں جائیں گے اورادارہ ٹی سی ایس ودیگر کوریئر کمپنیوں کی طرح اپنی کارکردگی کو موثربنائے۔ قائمہ کمیٹی نے باقی ایجنڈا آئندہ اجلاس تک موخرکردیا ہے.

قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز فیصل سلیم رحمان، سیف اللہ ابڑو، دنیش کمار، شمیم آفریدی، محمد اکرم، حافظ عبدالکریم، عبدالقادر کے علاوہ سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے، آئی جی موٹروے پولیس، ڈی جی پوسٹل سروسز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ہے.