fbpx

قانون سازی چیلنج کرنے کا اعلان کرنیوالی اپوزیشن کو فروغ نسیم نے دیا جواب

قانون سازی چیلنج کرنے کا اعلان کرنیوالی اپوزیشن کو فروغ نسیم نے دیا جواب

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ مر دم شماری کے معاملے پربھی سیاست کی جا رہی ہے

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ نئی مردم شماری اب ہونے جا رہی ہے پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ اور بلوچستان کا مطالبہ تھا کہ دوبارہ مردم شماری کرائی جائے ، سال 1998 کے بعد 2008 میں مردم شماری کرانی چاہیے تھی ، نئی مردم شماری کے لیے جدید طریقہ کار اپنایا جائے گا،جدید ڈیوائسز استعمال ہوں گی پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ حیدر آباد میں یونیورسٹی نہیں ہونی چاہیے ہمارا مؤقف ہے کہ ہر جگہ یونیورسٹیز اور تعلیمی ادارے ہونے چاہئیں،الیکشن کمیشن پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال لازم ہے،ای وی ایم کے استعمال سے 100 فیصد درستگی کا نہیں کہہ سکتے،پرانے طریقۂ کار میں دہری مہر اور غلط جگہ مہر لگانے کی شکایات سامنے آتی تھیں ای وی ایم پرانے طریقۂ کار سے بہتر ہے،اپوزیشن کوئی بھی بل پاس نہیں ہونے دے رہی، اپوزیشن سیشن سے پہلے کہتی ہے کہ پاکستان کے مفاد کے لیے بہتر قانون سازی کرنی ہے، سیشن شروع ہوتا ہے تو اپوزیشن مخالفت اور شورشرابہ کرتی ہے،ای وی ایم کے استعمال کو ایک موقع ضرور دیناچاہیے،ای وی ایم شفاف انتخابات کے لیے ضروری ہے

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ اپوزیشن نےکہا انتخابی اصلاحا ت کابل چیلنج کریں گے،اپوزیشن جماعتوں کے تمام اعتراضات بے بنیاد ہیں مشترکہ سیشن پارلیمانی نہیں تو 18ویں ترمیم میں نکال دیتے،مشترکہ سیشن میں 34 بل مفادعامہ میں پاس ہوئے ،میں نے کہا آرٹیکل 55 سب آرٹیکل ون پڑھ لیں جواب مل جائے گا، جو کہتے ہیں قانون سازی چیلنج کرینگے وہ بے شک کریں لیکن مطالعہ ضرور کریں

وزیرقانون فروغ نسیم نے عالمی عدالت انصاف نظرثانی بل اورکلبھوشن کیس پروضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بل کی مخالفت کرنے والوں نے شاید اسے پڑھا نہیں ،قونصلر رسائی نہ ملنے پر بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیاپاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس کا بھرپور دفاع کیا بھارت نے کلبھوشن کی بریت کی استدعا کی تھی،عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کی بریت کی درخواست مسترد کی،عالمی عدالت انصاف نے قونصلر رسائی کی درخواست منظور کی،عالمی عدالت انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بل لائے،کلبھوشن کیس ملکی سیکیورٹی کا معاملہ ہے،کلبھوشن کا معاملہ ریڈ لائن ہے،کیسے پارلیمان ہیں جنہیں ملکی مفاد کا ہی پتہ نہیں ،بھارت کے ناپاک عزائم تھے،کلبھوشن سے متعلق قانون سازی پر بھارت کے ہاتھ کاٹ دیئے ہیں ،اپوزیشن میں بیٹھے سیاستدانوں کو سمجھ نہیں، وہ کیسے سیاستدان ہیں،اپوزیشن کو قومی سلامتی کا ادراک کیوں نہیں،قانون سازی کے معاملے پر ڈس انفارمیشن پھیلائی گئی،پاکستان کلبھوشن کیس جیت چکا ہے، پاکستان بنانا ری پبلک نہیں ہے،

@MumtaazAwan

پاکستان کا کلبھوشن کے معاملے پربھارت سے دوبارہ رابطہ

کلبھوشن کا وکیل مقرر کرنے کی درخواست پر سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل

کلبھوشن کی سزا کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرنے کی مدت ختم

کلبھوشن کا نام لینے یا نہ لینے پر حب الوطنی یا غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتاتھا اب سہولت کاری کیلیے قانون بن رہا ہے، خواجہ آصف

کلبھوشن یادیوتک قونصلر رسائی، بھارت مان گیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی کا ایک اور موقع دے دیا

کلبھوشن یادیو کیس ،حکومت کا عالمی عدالت انصاف آرڈیننس میں توسیع کا فیصلہ

کلبھوشن کیس میں بھارت کی کیا کوشش ہے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

پاکستانی عدالت کلبھوشن کا کیس نہیں سن سکتی، بھارت

کلبھوشن کیس،وزیر قانون اور ن لیگی رہنما لڑ پڑے،کمیٹی کا چیئرمین نہیں لیکن آپکا نوکر بھی نہیں،فروغ نسیم کا جواب

بھارت کلبھوشن کے ساتھ اکیلے کمرے میں قونصلر رسائی چاہتا،اٹارنی جنرل،عدالت کا حکم بھی آ گیا

کلبھوشن کیس،مناسب ہے بھارت کو ایک اور موقع دیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ

 

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!