پاکستان میں سخت میکرو اکنامک پالیسی اور قرضے بڑھنے سے سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے،عالمی بینک

رواں مالی سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 0.7 فیصد متوقع ہے
0
180
world bank

عالمی بینک کی پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مزید ایک کروڑ افراد کا غربت کی لکیر سے نیچے جانے کا خدشہ ہے۔

باغی ٹی وی : پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میکرو اکنامک خطرات برقرار ہیں اور قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوا ہے، مالی سال 2022-23 میں غربت کی شرح میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا، مزید ایک کروڑ افراد کا غربت کی لکیر سے نیچے جانے کا خدشہ ہے،سخت میکرو اکنامک پالیسی اور قرضے بڑھنے سے سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے، پرائمری بیلنس جی ڈی پی کا 0.1 فیصد متوقع ہے جو آئندہ مالی سال 0.3 فیصد ہو جائے گا۔

عالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ رواں مالی سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 0.7 فیصد متوقع ہےجبکہ آئندہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مزید کم ہو کر جی ڈی پی کا0.6 فیصد متوقع ہے پاکستان کی بیرونی قرضوں کی متوقع ضرورت برقرار رہیں گی، رواں مالی سال قرضوں کی شرح کم ہوکرجی ڈی پی کا73.1 فیصد متوقع ہے جبکہ آئندہ مالی سال قرضوں کی شرح کم ہوکرجی ڈی پی کا 72.5 فیصد متوقع ہے۔

کراچی :اسکول میں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بننے کے کیس میں اہم پیشرفت

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق مضبوط زرعی پیداوار سے مالی سال 2024 کی پہلی ششماہی میں معاشی سرگرمیاں بہتر ہوئیں، اعتماد میں بہتری کے ساتھ بعض دیگر شعبوں میں بھی بحالی میں مدد ملی ہے تاہم نمو اور بہتری کی یہ شرح غربت کو کم کرنے کیلئے ناکافی ہے ، رواں مالی سال پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 3.5 کے بجائے 1.8 فیصد رہےگی۔

جھوٹ بولنے اور جھوٹے الزامات کے کلچر کو بدلنا ہوگا،وزیراعلیٰ مریم نواز

عمران خان کے دعوؤں کو صوبہ سندھ اور گورنرہاؤس میں نافذ ہوتا دیکھیں گے،عمران ٹیسوری

Leave a reply