fbpx

قاصدِ آشتی!!! — طلحہ ملک

فضائی آلودگی؛نقصانات اور حل:

آب و ہوا ہر جاندار کی زندگی کی ضمانت ہے آلودہ فضائی ماحول انسانوں کے لیے مضرِ صحت ہے ہوا کی آلودگی یعنی گندگی بعض اوقات تو پاک صاف علاقوں میں بھی واقع ہو جاتی ہے جس کی بنیادی وجہ موسمی تبدیلی ہوتی ہے عام طور پر ہر شخص کے مشاہدے میں یہ بات ہو گی کہ موسم کی تبدیلی خرابئ صحت کا باعث بنتی ہے تبدیلی کے اس مختصر عرصہ میں عموماً نزلہ زکام بخار اور گلا خراب جیسی شکایات ہر دوسرے فرد کو رہتی ہیں، فضائی آلودگی کی دیگر وجوہات میں ٹریفک کا دھواں، بھٹیوں کا دھواں، کارخانوں اور مِلوں کے زہریلے گیس وغیرہ شامل ہیں جو پلاسٹک، کچرا، ربڑ کے ٹائر اور دیگر ضائع مواد جلانے سے پیدا ہوتے ہیں۔

یہ زہریلے گیس قدرتی ہوا میں شامل ہو کر فضاء کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حکومتوں کے بس میں ہو تو وہ سانس لینے پر بھی ٹیکس لگا دیں یہاں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ ٹیکس تو مِل مالکان عوام پر لگا ہی چکے ہیں جس میں حکومت برابر کی شریک ہے۔

ہم ہسپتالوں کا جائزہ لیں تو یہاں مریضوں کی کُل تعداد کا نصف سے زائد حصہ فضائی آلودگی کی وجہ سے ان شفا خانوں کا مستقل گاہک ہے۔ اصل میں یہ کم علم غریب عوام حسبِ استطاعت اپنی سانس کا ٹیکس ادا کرنے قطاروں میں کھڑے، ویل چیئرز پر بیٹھے یا بے بس لیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔

فضائی آلودگی کے نقصانات سے حکومتی ادارے اور کارخانے دار لا علم تو نہیں مگر بے پرواہ ضرور ہیں۔ لیکن یاد دہانی عرض کیے دیتا ہوں کہ صحت کے عالمی اداروں کے مطابق مبینہ طور پر تمام بیماریوں کی بڑی وجہ فضا میں موجود زہریلے ذرات ہوتے ہیں کہ جن سے پھیپھڑوں کے کینسر اور دمے جیسے بڑے امراض سمیت اعصاب کی کمزوری دماغ پر برے اثرات جگر کے فیل ہونے اور چند چھوٹے امراض الٹی آنا، چکر آنا گلا خراب اور خشک کھانسی وغیرہ شامل ہیں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں صرف فضائی آلودگی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 70 لاکھ سے زائد ہے میری معلومات کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں پاکستان کے فضائی آلودگی والے شہروں میں ماہِ اکتوبر اور نومبر میں ہائی الرٹ اور ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے ان مہینوں میں موسمی تبدیلی تو خرابئ صحت کی بڑی وجہ بنتی ہی ہے مگر فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں اور ان سے پیدا ہونے والی زہریلی گیسیں صحت مند افراد کے لیے بھی مضر ثابت ہوتی ہیں اور شہر بھر کے اسپتالوں اور نجی کلینکس پر شہریوں کا جمِ غفیر موجود رہتا ہے ایسے حالات میں بے بس انتظامیہ روز اخبارات میں چند آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو سیل کرنے کی فوٹو لگا کر عوام الناس کے جذبات کو تسکین پہنچانے کی نیم کامیاب کوشش کرتی ہے مگر کارخانے دار چند روپیوں کے عوض غریب کے سانس پر ٹیکس لگانے کا اجازت نامہ دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں اور پھر پورا سال آزادی سے انتظامیہ کی سرپرستی میں آلودگی پھیلانے کا کام بخوبی سر انجام دیتے ہیں۔

یاد رہے یہ ایسے ملک کی حالت ہے کہ جنہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ گذشتہ کچھ سالوں سے ان کا ملک دنیا بھر میں فضائی آلودگی میں اول یا دوم رہا ہے، کراچی، لاہور، گوجرانوالہ اور بہاولپور وغیرہ پاکستان کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہو جاتے ہیں کیا خوب ہو کہ قبل از وقت ان معاملات پر ایمرجنسی بنیادوں پر ان مشکلات کے حل کے لیے کام کر لیا جائے .

چند سرکاری افسر جو اپنے فرائض کو انجام دینے کے لیے حکومتی حکم ناموں کا بھی انتظار نہیں کرتے ایسے لوگ آج بھی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اچھے آفیسرز اپنے فرائض پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتے وہ مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں اور عمل درآمد کے لیے ہر ممکن کوشش کر جاتے ہیں۔

ٹریفک پولیس بھی اگر ایمانداری کے ساتھ پورا سال لوگوں کو ذہریلے دھوئیں کے مضر اثرات سے آگاہ کرے اور خلاف ورزی کرنے والے کو مناسب جرمانہ کرے اسی طرح دیگر ایسے عوامل جو ماحول کی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں حکومتی سطح پر اس کی آگاہی مہم پورا سال چلائی جائے اور عوام الناس کو درخت لگانے کے فوائد سے آگاہ کیا جائے، درخت لگانے کے لیے جا بجا سہولتیں دی جائیں اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو فضائی آلودگی کے شدید ترین نقصانات سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے جس میں بہر صورت عوام الناس کے تعاون کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔