fbpx

قتل کا مقدمہ درج نہ کرنے پر ایس ایچ او تھانہ گلبرک اور ایس ایس پی کمپلینٹ سیل کو نوٹس جاری

محمد حسیب کے قتل کا مقدمہ درج نہ کرنے پر ایس ایچ او تھانہ گلبرک اور ایس ایس پی کمپلینٹ سیل کو نوٹس جاری۔

ایڈیشنل سیشن جج کورٹ نمبر 5 کراچی سینٹرل نے مسمات راشدہ کی پٹیشن پر 7 اگست 2021 کو رپورٹ طلب کرلی ہے۔

مسمات راشدہ نے اپنے وکیل لیاقت علی خان گبول کے توسط سے امید میڈیکل سینٹر کی انتظامیہ کے خلاف داخل کی ہے۔

درخواست گزار مسمات راشدہنے کہا کہ میں نے اپنے بیٹے حسیب کو علاج کی غرض سے امید میڈیکل سینٹر میں ایڈمٹ کروایا۔ ایک ہفتے سے میرا بیٹا امید میڈیکل سینٹر کے Rehabilitation وارڈمیں زیر علاج تھا جو کہ بلکل صحت مند اور ٹھیک تھا۔

18جولای 2021 کو مجھےامید میڈیکل سینٹر کے منیجر اظہر نے صبح فون کرکے بتایا کہ آ پ کے بیٹے نے گلے میں پھندا ڈالا ہوا ہے جس کی وجہ سے اس کو سانس لینے میں مشکل ہورہی ہے۔

اس اطلاع پر جب میں اور میرا شوہر عزیز خان امید میڈیکل سینٹر پہنچے تو میں نے دیکھا میر ے بیٹے کی چارپائی پر لاش پڑی ہوئی ہے۔

جب میں نے منیجر اظہر ،ڈاکٹر بھیم حرامانی ،سید حسین اور دیگر ڈاکٹر اور اسٹاف سے واقعے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہمیں دھمکیاں دیں لاش لے جاؤ۔

ہم اپنے بیٹے کی لاش لیکر ایدھی سرد خانے کورنگی میں لاے تو انہوں نے پولیس راہداری سرٹیفکیٹ مانگا۔

تھانے گلبرک میں راہداری سرٹفکیٹ لینے گےتو پولیس امید میڈیکل سینٹر کی انتظامیہ کی ایماء پر ہم سے زبردستی درخواست پر دستخط کرواکر راہداری سرٹفکیٹ جاری کیا۔

جب میں نے اور میر ے شوہر نے تھانہ گلبرک میں مقدمہ اندراج کے لیے رجوع کیا تو پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا بلکہ انکوائری افسر میری بیٹی کے موبائل پر گڈ مارننگ کے میسیج بھیجنے لگا۔

امید میڈیکل سینٹر کی انتظامیہ اور ڈاکٹرز کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے محمد حسیب کی موت واقع ہوئی ہے۔

میری کلائنٹ نے ایس ایچ او گلبرک سمیت پولیس کے اعلی حکام کو مقدمہ کے اندراج کے لیے درخواستیں دیں لیکن کوی کاروائی نہیں ہوئ ہے۔

عدالت سے استدعا ہے کہ پولیس کو حسیب کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کے احکامات دیے جائیں۔
عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوے پولیس سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔