ورلڈ ہیڈر ایڈ

11ستمبر 1948 رات 10 بج کر 20 منٹ پر اس قوم کے قائد اپنے خالق حقیقی سے جاملے

لاہور : اس قوم کے قائد ، برصغیرکے مسلمانوں کے قائد ، جنہیں‌ قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے تاریخ یاد رکھے گی 11 ستمبر 1948 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ، رپورٹ کے مطابق مملکت ِخداداد پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے ، مسلمانوں کے حقوق اورعلیحدہ وطن کے حصول کے لئے انتھک جدوجہد نے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کئے۔

قائداعظم کی تاریخ پر نظر رکھنے والے مورخین کا کہنا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو سن 1930 میں انہیں ٹی بی جیسا موزی مرض لاحق ہوا جسے انہوں نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور چند قریبی رفقاء کے علاوہ سب سے پوشیدہ رکھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ صورتحال میں گزارے، ان کا مرض شدت پر تھا اور آپ کو دی جانے والی دوائیں مرض کی شدت کم کرنے میں ناکام ثابت ہورہیں تھیں

مورخین لکھتے ہیں کہ قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹرکرنل الٰہی بخش اوردیگر معالجین کے مشورے پر وہ چھ جولائی 1948 کو آب و ہوا کی تبدیلی اورآرام کی غرض کے لئے کوئٹہ تشریف لے آئے، جہاں کا موسم نسبتاً ٹھنڈا تھا لیکن یہاں بھی ان کی سرکاری مصروفیات انہیں آرام نہیں کرنے دیں رہیں تھیں لہذا جلد ہی انہیں قدرے بلند مقام زیارت میں واقع ریزیڈنسی میں منتقل کردیا گیا، جسے اب قائد اعظم ریزیڈنسی کہا جاتا ہے

طبیعت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے قائد اعظم محمد علی جناح کو گیارہ ستمبر کو انہیں سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا گیا جہاں ان کی ذاتی گاڑی اورایمبولینس انہیں لے کرگورنر ہاؤس کراچی کی جانب روانہ ہوئی۔ بد قسمتی کہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی اور آدھے گھنٹے تک دوسری ایمبولینس کا انتظارکیا گیا۔ شدید گرمی کے عالم میں محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی اورقوم کے محبوب قائد کو دستی پنکھے سے ہوا جھلتی رہیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی موت بھی بڑی عجیب تھی ، کوئٹہ سے کراچی وارد ہونے کے دوگھنٹے بعد جب یہ مختصرقافلہ گورنرہاؤس کراچی پہنچا توقائداعظم کی حالت تشویش ناک ہوچکی تھی اوررات دس بج کر بیس منٹ پر وہ اس دارِفانی سے رخصت فرما گئ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.