fbpx

قحط سالی کا شکار تھراوربےحس سندھ حکومت . تحریر: فرازوہاب

اسلامی اقدارمیں خلیفہ کی ذمہ داری بہت اہم بنائی گئی ہے جب کوئی شخص خلیفہ کے عہدے پرفائزہوتا ہے تواپنی رعایا کے حقوق کے تحفظ کا ذمہ داربنا دیا جاتا ہے ایک صحابیِ رسول صلہ اللہ علیہ وسلم نے جب آپ صلہ اللہ علیہ وسلم سے پوچھا بہترین صدقہ کیا ہے تو آپ صلہ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’پانی پلانا‘۔

لیکن آج اْمتِ مسلمہ پانی کی بوند کے لیے ترس رہی ہے اورارباب اقتدارجانورتو دورانسانی اموات کے ضیاع پربھی انتہائی ڈھٹائی سے کہ رہے ہیں کہ موت کا اختیار اللہ کے پاس ہے انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ وزیراعلی سندھ ایمانداری سے بتائیں کیا وہ چھوڑ سکتے ہیں اپنے اہلخانہ کوقحط زدہ تھرمیں؟ وہ بھی بغیرپانی کے؟ ماضی میں جب وزیراعلیٰ سندھ سے تھر کے متعلق کوئی بھی سوال کیا جاتا تو انتہائی مضحکہ خیزبات فرماتے کہ تھرمیں اموات بھوک سے نہیں غربت سے ہو رہی ہیں پتا نہیں کس قسم کا نفسیاتی معاملہ ہے وزیراعلی سندھ کے ساتھ جو ان کو یہ نہیں معلوم کہ غربت ہی بھوک کو جنم دیتی ہے اورشرجیل میمن کا یہ بیان کہ پاکستان میں روز600 بچے مرتے ہیں تھرمیں مرنے پہ شورشرابہ کیوں انتہائی سنگدلی اوربے غیرتی کی مثال تھی.

ظاہر سی بات ہے اگرتھرمیں بھٹو، تالپور، سومرو اورمگسی خاندان رہتے تو وہ منرل واٹرپرگذارا کرتے پرتھرکواس لیے نظراندازکردیا گیا کہ وہاں غریب عوام رہتی ہے جو کنویں سے پانی بھرکراونٹوں اورگدھوں پرلاد کرگھرپہنچاتی ہے اورتھرکے معصوم بچے جنہیں تعلیم کی طرف جانا چاہیے وہ بچے بھی تعلیم کے بوجھ کی بجائے پانی کا بوجھ کاندھوں پرلیے پھرتے ہیں۔ سندھ دھرتی کے دعوے داربلاول زرداری سے سوال ہے کہ اس ضمن میں انہوں نے سندھ دھرتی جسے وہ ماں کہتے ہیں کی کیا خدمت کری؟ کیا کوئی اپنی ماں کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے جیسا سندھ دھرتی کو ماں کہنے والوں نے تھرکے ساتھ کیا؟

سندھ حکومت کی بے حسی کی انتہا تو تھرمیں عیاں ہوگئی لیکن حیرت ہے وفاقی حکومت بھی غفلت کی چادراوڑھے ہوئے ہے اب تک سندھ حکومت اوروفاقی حکومت کی جانب سے تھرکے معاملے میں کوئی عملی اقدامات نظرنہیں آئے۔ تھرکے حالات سے حکمرانوں کی بےحسی کا اندازہ ہوجانا چاہیے جوپانچ کروڑکی آبادی والے صوبے کی عوام کوقحط سے ماررہے ہیں اتنی بڑی ناکامی پرسندھ حکومت کوغیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہیے تھا۔

@FarazWahab1