رمضان میں قوم دعا کرے، ورلڈ کپ پاکستان جیتے گا، انضمام الحق کی باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو

پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سیلکٹر انضمام الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کی ٹیم ورلڈ کپ جیتے گی، رمضان کے مہینہ میں قوم ٹیم کے لئے دعائیں کرے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سیلکٹر انضمام الحق نے باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل سے ہم ورلڈ کپ جیتیں گے ، ہماری ٹیم کی باولنگ کلک کرے گی، بہترین باولنگ ہمارے پاس ہے،. انگلیںڈ میں جا کر ہمارے بیٹسمینوں‌ کو مشکل ہوئی اگرچہ ہم جیت تو نہیں سکے لیکن کچھ پازیٹو چیزیں سامنے آئی ہیں. اگرچہ بابر نے بھی سکور کیا، امام نے بھی سکو رکیا، حفیظ،ملک،سرفراز نے بھی سکور کیا، چھ سے سات بیٹسمین ان فارم لگ رہے ہیں ،کسی بھی ایونٹ میں جب جاتے ہیں تو یہ کہنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ ہم جیت جائیں گے لیکن اللہ کے فضل سے ہم ورلڈ کپ جیتیں گے. لیکن اس ایونٹ میں کامیابی کا کیا معیار ہو؟ .انہوں نے کہا کہ بیٹنگ لائن ان فارم ہونی چاہئے،پاکستان کی وہ ہے، ایوریج باولنگ ہوئی لیکن امید ہے کہ ورلڈ کپ کے میچز میں بہتر ہو گی. ہمارا فیلڈنگ کا سٹینڈرڈ‌بہتر ہو گیا تو ہم ورلڈ کپ جیت کر آئیں گے، بہت اچھی کرکٹ کھیل کر آئیں گے، بہت ٹیموں سے اچھے ہیں، ہماری ٹیم بہت اچھا پرفارم کرے گی .

انضمام الحق نے مزید کہا کہ اگر کہیں جانا ہو تو راستہ ایک نہیں کئی ہوتے ہیں یہ ضروری نہیں کہ ورلڈ کپ جییتنے کے لئے بڑے بڑے نام ہوں، چیمپیئن ٹرافی جو پاکستان جیتا اس میں کوئی بڑا نام نہیں سیری لنکا ورلڈ کپ جیتا تھا تو اسوقت بھی کوئی بڑا سٹار نہیں تھا، ایسا ضروری نہیں، 96 کے بعد سری لنکا کی ٹیم آگے آئی تھی، انہوں نے کہا کہ ایک چیز پر میرا یقین ہے کہ ہم جیتتے دعاوں سے ہے، رمضان چل رہا ہے خوب دعا مانگیں، پاکستان کی ٹیم محنت کر کے جا رہی ہے، ساری ٹیمیں محنت کر کے آ رہی ہیں،. ہم اللہ کے سامنے دو نفل پڑھ کر دعائیں کریں .اسکا ہمیں فائدہ اٹھانا چاہئے.

انضمام الحق نے مزید کہا کہ یہ کھلاڑی پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں، پاکستانی عوام کو میچ جیتنے کی صورت میں خوشی کے علاوہ کچھ نہیں ملتا، اپنی جیب سے پیسے لگاتے ہیں مٹھائی بانٹتے ہیں اور جو یہ کھلاڑی ہیں ان کو خوشی بھی ملتی ہے اور پیسہ بھی ملتا ہے. عزت بھی ملتی ہے، کھلاڑی بھی محنت کرتے ہیں، جیت ہار اللہ کے ہاتھ میں ہے، کوئی کہے کہ کسی نے محنت کی ایسا نہیں ہے، ساری ٹیمیں محنت کرتی ہیں.

انضمام الحق کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے انگلینڈ کے ساتھ میچز دیکھے، ہمارا بلکہ سب کا خیال تھا کہ انگلینڈ میں سیم ہونا چاہئے ہم نے اس حساب سے باولر دیکھے تھے ان پانچ میچز سے آئیڈیا ہوا کہ وہاں کی کنڈیشن کا ، پہلے سسٹم بتا دوں پہلے ہوتا تھا کہ ڈیڑھ مہینے پہلے آئی سی سی کو تیس نام دیتے تھے اور اس میں تبدیلی کر سکتے تھے، اب 23 تاریخ تک ہر ٹیم کو حق ہے کہ کوئی بھی لڑکا بدلی کرنا چاہیں تو آئی سی سی کو بتائے بغیر کر سکتے ہیں بے شک ٹیم اناونس کر دی ہے تو پھر بھی بدلی کر سکتے ہیں، 23 کے بعد آئی سی سی کی پرمشن کی ضرورت ہوتی ہے، ہم نے فائدہ اٹھایا ،ہم نے محسوس کیا کہ انگلینڈ کے ساتھ سیریز میں باولنگ تھوڑٰی سی ناتجربہ کار لگی، حسن علی، شاہین ، فہیم اشرف ، حسنین ان سب سے پچاس کے قریب یا اس سے کم میچ کھیل رکھے ہیں تھوڑی سی ان ایکسپیرینس باولنگ تھی، اس لئے تبدیلیاں کی گئیں.

انضمام الحق نے مزید کہا کہ انشاء اللہ امید ہے کہ عامر سینئر باولر ہے، چیمپین ٹرافی کھیلا ہوا ہے، انگلیںڈ کے ایک دو ٹور کر رکھے ہیں، اس کا کافی ایکسپیرینس ہے .اگر ہمارے باولر کو مار پڑی ہے، تو ویسے انگلینڈ کے باولر کو بھی اسی طرح مار پڑی ہے. ایسے نہین ہے کہ انہیں مار نہیں پڑی،عامر کو میں نے کبھی اتنا سکور ہوتے نہیں دیکھا کہ کوئی بیٹسمین اتنی‌ آسانی سے سکور بنا سکے. وہاب ریاض کو شامل کیا ہے اس کی وجہ ہے کہ یہ پرانا ہے، اسکی پیس 145 اور ففٹی کے درمیان ہے. یہ بھی ایک ایج ہمیں مل سکتا ہے.

پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سیلکٹر انضمام الحق کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کو فیلڈنگ کا مسئلہ شروع سے ہے، فیلڈنگ کا سٹینڈرڈ اتنا اچھا نہیں رہا جتنا گوروں کا یا آسٹریلیا کا تھا لیکن پچھلے کچھ عرصے سے کیونکہ جس ٹائم فٹنس پر ہم نے زور دیا کہ فٹنس لیول ہونا چاہئے اس کے بعد سے فیلڈنگ بہتر ہو گئی، سائوتھ افریقہ کے ساتھ کمپیریزن نہیں کر سکتے لیکن فیلڈنگ بحر حال بہتر ہوئی ہے. جو پہلے سٹینڈرڈ تھا اس سے بہت بہتر، بہت شوکنگ تھا کہ جس طرح پاکستان نے اس سیریز میں فیلڈنگ کی ،اس سیریز میں ساڑھے چودہ سو انہوں نے کئے اور ساڑھے تیرہ سو ہمارے ہیں. صرف سو رنز کا فرق ہے .جو کیچز چھوڑے یہ اس چیز کا فرق ہے اگر صحیح کھیل لیتے تو سو رنز پاکستان کے زیادہ ہوتے .جہاں ہائی سکورنگ گیم ہو رہی ہو وہاں فیلڈنگ بہت زیادہ میٹر کرتی ہے. ایک مین بیٹسمین کا کیچ چھوڑ دیں گے تو وہ بہت مہنگا پڑے گا، بابر اور سرفراز جس طرح آخری میچ کھیل رہے تھے اس میں ہم نے جیت جانا تھا لیکن ان کے کھلاڑیوں نے اچھی فیلڈنگ کی ،او رن آوٹ کر دیا جس کی وجہ سے سارا میچ بدل گیا .فیلڈنگ میجر رول ہے ہم بعض ٹائم مس کر دیتے ہیں کہ اس نے دو آوٹ کر رکھے ہیں، جو اس نے سکور کئے وہ ہم کاونٹ نہیں‌کرتے، فیلڈنگ کا مین کردار ہے، ٹیم منیجمنٹ، فیلڈنگ کوچ سے بات ہوتی ہے ہم اس کمزوری پر قابو پانے کی کوشش کریں گے.

انضمام الحق نے شاداب کے حوالہ سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ پچھلے دو سال سے سپن ڈیپارٹ کا بوجھ شاداب نے اٹھا رکھا تھا اور بڑے اچھے طریقے سے نبھایا تھا، شاداب ہمارا بہترین فیلڈر ہے ،وہ آل رائونڈر ہے. مشکل حالات میں اس نے پاکستان ٹیم کی مدد کی اور سکور کیا. ہمارا بڑا کی پلیئر ہے باولنگ، فیلڈنگ اور بیٹنگ میں ، شاداب اللہ کے فضل سے بالکل فٹ ہے، انگلینڈ میں ایک میچ کھلایا تھا ، اس کی ڈاکٹر کی رپورٹ بھی کلیئر ہے، ٹیم کے لئے اچھا ہوگا.

انضمام الحق کا مزید کہنا تھا کہ آئی سی سی چاہتا ہے ہ انٹرٹینمنٹ آئے، کرکٹ کمرشل کی طرف نکل آئی ہے، جس ملک میں ٹیسٹ میچ ہو آئی سی سی اور وہ ملک نہیں چاہتے کہ چوتھے دن میچ ختم ہو، چوتھے دن میں میچ ختم ہو جائے تو پانچویں دن کی ٹکٹ واپس کرنی پڑتی ہیں اس کا نقصان ،پھر گراونڈ میں جو ہورڈنگز لگی ہوتی ہیں سارے کمرشلز ہیں وہ بھی میچ کے مقررہ دنوں کے لئے ہوتے ہیں، تیسری چیز جو ٹی وی رائٹس ہوتے ہیں اس کے پیسے بھی چلے گئے، کسی بھی ملک کا گراونڈ ہو گا تو وہ کوشش کریں گے کہ یہ ٹیسٹ میچ ایک گھنٹہ ایکسٹرا چل جائے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.